مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 755 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 755

755 خادم ) سب سے زیادہ کمل اور مقبول ومشہور ہے“۔(سیرت سیداحمدشہید صفحہ ۱۸ صفحه ۲۳) اسی طرح نواب صدیق حسن خاں صاحب بھو پالی لکھتے ہیں:۔" سید احمد شاہ صاحب ساکن نصیر آباد بریلی میں ایک شخص تھے وہ کلکتہ گئے تھے اور ہزاروں مسلمان فوج انگریزی کے ان کے مرید ہو گئے۔مگر انہوں نے کبھی یہ ارادہ ساتھ سرکار انگریزی کے ظاہر نہیں کیا اور نہ سرکار نے ان سے کچھ تعرض کیا“۔(ترجمان وہابیہ صفحہ ۴۵) اس شہادت سے یہ ثابت ہوا کہ جو کچھ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری نے لکھا وہ بالکل صحیح اور درست تھا۔یا در ہے کہ حضرت سید احمد بریلوی اور سید اسمعیل شہید وہ بزرگ ہیں جو ہندوستان بر خیل مجاہدین کے سردار اور اول المجاہدین تھے جنہوں نے یو۔پی سے اٹھ کر پنجاب کی سکھ حکومت کے خلاف سرحد پار کر کے افغانستان کی طرف سے حملہ آور ہو کر سالہاسال تلوار کے ساتھ جہاد کیا اور عین میدانِ جہاد میں شہید ہوئے۔انہوں نے سکھ حکومت کے خلاف یہ جہاد محض اس وجہ سے کیا کہ سکھ دین میں جبر کر رہے تھے۔اس لئے اسلامی تعلیم کے رو سے سکھوں کے خلاف علم جہاد بلند کرنا ضروری تھا لیکن ان ہر دو بزرگوں نے عمر بھر کبھی انگریزی حکومت کے ساتھ جہاد نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس صاف صاف لفظوں میں یہ فتویٰ دیا کہ (0) نہ با کسے از امراء مسلمین منازعت داریم۔نہ از رؤسائے مومنین مخالفت با کفا ر لینام مقابلہ داریم نه بامدعیان اسلام صرف بادر از موئیان جویان متقابلہ ایم۔نہ باکلمہ گویان و نہ اسلام جویان۔ونه به سرکار انگریزی که او مسلمان رعایا ئے خود را برائے ادائے فرض مذہبی شان آزادی بخشیده است۔“ مکتوب حضرت سید احمد بریلوی۔سوانح احمدی صفحه ۱۱۵ مصنفہ مولوی محمد جعفر صاحب تھا میری) یعنی ہم کسی مسلمان امیر سے جنگ یا پر کار کرنا نہیں چاہتے صرف کفار ٹیم سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ہم مدعیان اسلام سے بھی جنگ نہیں کرنا چاہتے۔صرف لمبے بالوں والوں (سکھوں) سے مقابلہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔کلمہ گویوں یا مسلمان کہلانے والوں یا سر کار انگریزی سے کہ جس نے اپنی مسلمان رعایا کو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لئے کامل آزادی دے رکھی ہے۔ہم جنگ نہیں کرنا چاہتے۔یہ تیرہویں صدی کے مجدد کا فتویٰ ہے۔جس کو تمام اہل حدیث اور اہل سنت واہل دیو بند اور احراری اپنا بزرگ خیال کرتے ہیں۔یہ ان کا اپنا تحریر فرمودہ فتویٰ ہے اس کے الفاظ نہ با سرکار