مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 757 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 757

757 یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہو گیا اور اصل جہاد کی غرض سمجھ لی“۔(سوانح احمدی صفحه ۴۵ مصنفہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری ) ( ج )۔اس واسطے ہر گھڑی اور ہر ساعت جہاد اور قتال کا ارادہ کرتے رہتے تھے اور سر کا رانگریزی گو کا فر تھی مگر اس کی مسلمان رعایا کی آزادی اور سر کا انگریزی کی بے روریائی اور بوجہ موجودگی ان حالات کے ہماری شریعت کے شرائط سرکار انگریزی سے جہاد کرنے کو مانع تھیں اس واسطے ان کو منظور ہوا کہ اقوام سکھ پنجاب پر جو نہایت ظالم اور احکامات شریعت کی حارج اور مانع تھے جہاد کیا جائے۔“ سوانح احمدی صفحه ۴۵ مصنفہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری) (د)۔یہ تو تھا فتویٰ حضرت سید احمد بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا اب آپ کے خلیفہ حضرت سید اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی ملاحظہ فرمائیں۔لکھا ہے:۔اثناء قیام کلکتہ میں جب ایک روز مولانا محمد اسمعیل صاحب شہید وعظ فرما رہے تھے ایک شخص نے مولانا سے یہ فتویٰ پوچھا کہ سرکار انگریزی پر جہاد کرنا درست ہے یا کہ نہیں؟ اس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ ایسی بے ردور یاء اور غیر متعصب سرکار پر کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں ہے اس وقت پنجاب کے سکھوں کا ظلم اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ (لازم ہے کہ ) ان پر جہاد کیا جائے۔“ ( سوانح احمدی صفحہ ۵۷ مصنفہ مولوی محمدجعفر صاحب تھانیسر ی) (ھ)۔سید صاحب (سید احمد بریلوی) کا سر کار انگریزی سے جہاد کرنے کا ہر گز ارادہ نہیں تھا وہ اس آزاد عمل داری کو اپنی ہی عمل داری سمجھتے تھے۔“ (سوانح احمدی صفحه ۱۳۹ مصنفہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری ) مندرجہ بالا فتاویٰ کو پڑھنے کے بعد ہر صاحب انصاف سمجھ سکتا ہے کہ انگریزی حکومت کے خلاف جہاد بالسیف نہ کرنے کا حکم ایسا ہے جس پر تیر ہوئیں اور چودہویں صدی کے مجددین کا اتفاق ہے پھر اس کے خلاف اگر کوئی دوسرا شخص معترض ہو تو اس کے اعتراض کو کیا وقعت دی جاسکتی ہے؟ پھر یاد رہے کہ حضرت سید احمد بریلوی اور حضرت مولانا محمد اسمعیل شہید وہ بزرگ ہیں۔جنہوں نے اپنی زندگیاں جہاد بالسیف کے لئے وقف کر دی ہوئی تھیں وہ سکھوں کے خلاف علم جہاد بلند کرتے ہوئے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ‘ (الاحزاب: ۲۴) کے مصداق ہو کر میدان جہاد میں شہید ہو گئے۔اس لئے ان بزرگان نے حکومت انگریزی کے خلاف تلوار نہ اٹھانے کا جوفتوی صادر کیا