مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 686
686 (1) يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا القِيْتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْقًّا فَلَا تُوَتُوهُمُ الْأَدْبَارَ “ (الانفال : ۱۲) ( تفسیر قادری مترجم جلد صفحه ۳۶۰ مطبع نولکشور لکھنو) (٢) إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ “ (الانفال : ٦٦) ( تفسیر قادری جلد ا صفحه ۴ ۳۷ مطبع نولکشور لکھنو) ( دیگر آیات کے لیے دیکھو تفسیر حسینی جلد اصفحه ۳۹۰ وصفحه ۴۵۳ مطبع نولکشور لکھنو) پس تم لوگوں کے منہ سے ( جو قرآن مجید میں بھی اختلاف اور تناقض کے قائل ہیں ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے اقوال میں تناقض کا الزام کچھ بھلا معلوم نہیں دیتا۔۱۰۔مولوی ثناءاللہ صاحب امرتسری لکھتے ہیں:۔آپ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی مشرکانہ عادت دیکھ کر قبرستان کی زیارت سے منع فرمایا تھا اور بعد اصلاح اجازت دے دی اور ان کے بخل کو مٹانے کی غرض سے قربانیوں کے گوشت تین دن زائد ر کھنے سے منع کر دیا تھا جس کی بعد میں اجازت دے دی۔ایسا ہی شراب کے برتنوں میں کھانا پینا منع کیا تھا مگر بعد میں ان کے استعمال کی اجازت بخشی 6 ( تفسیر ثنائی مؤلفہ مولوی ثناء اللہ امرتسری جلد اصفحہ ۱۰۶ سورة البقرة)۔ہم ضمن نمبر 9 میں اشارہ کر آئے ہیں کہ قرآن مجید کی آیات کے متعلق بھی منکرین اسلام نے تمہاری طرح یہ کہ کر کہ ان میں اختلاف ہے اپنی بد باطنی کا ثبوت دیا ہے۔چنانچہ پنڈت دیانند بانی آریہ سماج اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھتا ہے:۔کہیں خدا کومحیط کل لکھا ہے اور کہیں محدودالمکان۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن ایک شخص کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ بہت لوگوں کا بنایا ہوا ہے۔“ (ستیارتھ باب دفعہ ۲ صفحہ ۷۳۰) کہیں قرآن میں لکھا ہے کہ اونچی آواز سے اپنے پروردگار کو پکارو اور کہیں لکھا ہے کہ دھیمی آواز سے خدا کو یاد کرو۔اب کہئے کون سی بات کچی اور کونسی جھوٹی ہے۔ایک دوسرے کے متضاد باتیں پاگلوں کی بکواس کی مانند ہوتی ہیں۔(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴دفعہ ۷۵ ) چنانچہ چند آیات قرآنی بطور نمونہ لکھی جاتی ہیں۔جن میں تمہارے جیسے بد باطن دشمنوں کو اپنی کوتاہ نہی سے تناقض اور اختلاف معلوم ہوتا ہے۔(1) يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِم “ (التوبة: ۷۳) یعنی اے