مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 687 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 687

687 نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر۔اوران پرسختی کر۔اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے: "لَا إِكْرَاهُ فِي الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۷) کہ دین میں جبر جائز نہیں۔(۲) وَوَجَدَكَ صَا لَّا فَهَدى (الضحی (۸) کہ اے نبی ! ہم نے آپ کو ضال “پایا اور ہدایت دی مگر دوسری جگہ فرمایا: ”فَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَاغَوی “ (النجم:۳) کہ آنحضرت صلعم ضال نہیں ہوئے۔نوٹ : محمدیہ پاکٹ بک کے مصنف نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ پہلی آیت میں ضال بمعنی گمراہ نہیں۔بلکہ ” طالب خیر اور متلاشی کے معنوں میں ہے۔مگر دوسری آیت میں بمعنی گمراہ ہے۔اس کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ اس سے ثابت ہو گیا کہ بعض دفعہ دو عبارتوں میں ایک ہی لفظ کا استعمال ایک جگہ بصورت ایجاب مگر دوسری جگہ بصورت سلب ہوتا ہے۔مگر اس لفظ کے مختلف معانی ہونے کے باعث دونوں جگہ اس کے دوالگ الگ مفہوم ہوتے ہیں۔لہذا ان میں تناقض قرار دینا تمہارے جیسے سیاہ باطن“ انسانوں ہی کا کام ہو سکتا ہے۔بعینہ اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریرات میں مسیح یا انجیل یا نبوت کے الفاظ دو مختلف مفہوموں کے لحاظ سے استعمال ہوئے ہیں۔کسی جگہ مسیح سے مراد انجیلی یسوع ہے اور کسی جگہ قرآنی مسیح علیہ السلام۔اسی طرح کسی جگہ انجیل سے مراد محرف و مبدل انجیل ہے اور کسی جگہ اصل انجیل جو مسیح علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔کسی جگہ نبوت سے مراد تشریعی براہ راست نبوت ہے (اور اس کی اپنے متعلق نفی فرمائی ہے ) مگر دوسری جگہ نبوت سے مراد بالواسطہ غیر تشریعی نبوت ہے (اور اس کو اپنے وجود میں تسلیم فرمایا ہے ) پس ایسی تحریرات کو متناقض اور متخالف قرار دینا بھی انتہائی سیہ باطنی ہے۔(خادم) (۳) اللہ تعالی ایک جگہ فرماتا ہے: " إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال: ۳) که جب مومنوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل جوش مارنے لگ جاتے ہیں۔مگر دوسری جگہ فرمایا: - أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْبِنُ القُلوبُ (الرعد: ۲۹) کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دل میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔(۴) ایک جگہ فرمایا: الم يجدك يتيما فاوی “ (الضحی :۷) کہ اے نبی! ہم نے تجھے یتیم پایا اور تجھے اپنی پناہ میں لے لیا۔مگر دوسری جگہ فرمایا: " فَلا تَقُل لَّهُمَا أَفْ “ (سورۃ بنی اسرائیل:۲۴) که تو اپنے والدین کواف تک نہ کہہ۔