مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 685 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 685

685 حضور (صلعم) نے ادھرادھر دیکھا اور فرمایا۔”نہیں تم حرم کے اندرہی ہو۔“ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خیال کہ قَدْ خَرَجْتُم مِنَ الْحَرَمِ اور دوسرے خیال که بل انتُمْ فِیهِ» میں تناقض ہے یا نہیں ؟ یہ اسی طرح کا تناقض ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے ایک انگریز مؤرخ کی تحقیق کے پیش نظر مسیح ناصری علیہ السلام کی قبر شام میں لکھی ،لیکن بعد میں تحقیقات اور الہام الہی سے معلوم ہوا کہ قبرمیخ کشمیر میں ہے۔تب آپ نے پہلے خیال کی تردید کر دی۔نوٹ:۔مندرجہ بالا حدیث کے جواب میں یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جو بنو حارثہ کو حرم سے باہر قرار دیا تو یہ ظن اور گمان کے تحت فرمایا۔(محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۱۷۲) محض دفع الوقتی ہے کیونکہ ہمارا مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ بعض اوقات نبی ایک خیال کا اظہار کرتا ہے مگر بعد میں تحقیق سے وہ خیال غلط ثابت ہونے پر نبی اس کی تردید کر دیتا ہے اور یہ امر خلاف نبوت نہیں۔۔حدیث میں ہے کہ كَانَ۔۔۔۔۔يُحِبُّ مَوَافَقَةَ اَهْلِ الْكِتَابِ فِيْمَا لَمْ يُؤْمَرُ (مسلم كتاب الفضائل باب صفة شعره وصفاته وحليته) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام امور میں یہود اور نصاریٰ کی موافقت کرتے تھے جن کے متعلق حضور صلعم کو کوئی حکم نہ ملا تھا۔۔قرآن مجید کی آیات کے متعلق بھی مخالفین اسلام نے اعتراض کیا ہے کہ ان میں اختلاف ہے۔جماعت احمد یہ تو خدا کے فضل سے نہ قرآن مجید میں تناقض اور اختلاف کی قائل ہے۔نہ ناسخ منسوخ فی القرآن کو ہم مانتے ہیں۔لیکن ان اعتراضات کے وزنی ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ تم لوگوں نے تنگ آکر اور لاجواب ہو کر یہ تسلیم کر لیا کہ قرآن مجید کی بعض آیات بعض کی ناسخ ہیں۔گویا جن آیات کے مضمون میں اختلاف نظر آیا اور جن میں باہم تطبیق نہ ہو سکی۔ان میں سے جو پہلے نازل ہوئی وہ منسوخ اور جو بعد میں نازل ہوئی وہ اس کی ناسخ قرار دی۔چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں:۔عَلَى مَا حَرَّرْتُ لَا تَتَعَيَّنُ النَّسْخُ إِلَّا فِى خَمْسِ مَوَاضِع“ (الفوز الكبير صفحه ۱۸، ۲۱ مطبع مجتبائی دہلی مطبوعہ ۱۹۲ء) کہ میری تحریر کی رو سے قرآنِ مجید کی صرف پانچ آیات منسوخ ثابت ہوتی ہیں۔قرآن مجید کی منسوخ قرار دی جانے والی آیات میں سے چند درج ذیل ہیں :۔