مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 675
675 سے روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کر و۔پس انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا۔کل آنا۔میں تم کو بتاؤں گا اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی استثناء نہ کی۔یعنی آپ نے انشاء اللہ بھی نہ فرمایا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب عشرہ تک وحی رکی رہی۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ امر شاق گذرا۔اور آنحضرت صلعم کو قریش نے جھوٹا آدمی قرار دیا۔(نعوذ باللہ ) اعلان پڑھو:۔دوسرا سوال براہین احمدیہ کا روپیہ:۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا بدیر اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں۔یا ان کے دل میں بھی بدظنی پیدا ہو سکتی ہے۔وہ براہ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرما دیں اور میں ان کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا ان کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر رو پیدان کے حوالے کرے اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بد گوئی اور دشنام دہی کو بھی محض اللہ بخشتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو۔تو چاہیے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے ، وہ خط میری طرف بھیج دے۔تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا۔“ (تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۳۵، ۱۳۶ نیز دیکھوار بعین نمبر ۴ صفحہ ۲۸ پر حضرت اقدس کا عام اشتہار و تبلیغ رسالت جلدے صفحہ ۷۷ اشتہار یکم مئی ۱۸۹۳ء و کتاب ایام الصلح صفحہ ۱۷۳) اس بات کا ثبوت کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محض اعلان پر ہی اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ اس کے مطابق عملی طور پر روپیہ واپس بھی کیا دشمن سلسلہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کا مندرجہ ذیل معاندانہ بیان ہے:۔پوری قیمت وصول کر کے اور سوا سو آدمیوں کو قیمت واپس دے کر کل کی طرف سے اپنے آپ کو فارغ البال سمجھا جائے۔“ (الذکر احکیم نمبر۶ عرف کانا دجال صفحه ۴۰ آخری سطر ) گویا شدید سے شدید دشمن بھی تسلیم کرتا ہے کہ قیمت واپس دی گئی گو وہ اپنے دجالا نہ فریب سے حق کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے تا ہم حق بات اس کے قلم سے نکل گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں:۔