مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 674 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 674

674 الجواب:۔اس اعتراض کے تین حصے ہیں۔(۱) وعدہ خلافی۔(۲) روپیہ۔(۳) قومی نقصان۔یعنی اگر وہ دلائل شائع ہوتے تو ان سے بہت فائدہ پہنچتا۔سو وعدہ خلافی کے متعلق یا د رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا ارادہ تو فی الواقع تین سو دلائل براہین احمدیہ نامی کتاب ہی میں لکھنے کا تھا مگر ابھی چار حصے ہی لکھنے پائے تھے کہ اللہ تعالی نے آپ کو مامور فر ما دیا اور اس سے زیادہ عظیم الشان کام کی طرف متوجہ کر دیا۔اس لیے حضور کو مجبور ابراہین احمدیہ کی تالیف کا کام چھوڑ نا پڑا اور یہ بات اہل اسلام کے ہاں مسلم ہے کہ حالات کے تبدیل ہونے کے ساتھ وعدہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالی مومن مردوں اور مومن عورتوں کے ساتھ جنت کا وعدہ کرتا ہے۔اب اگر ایک مومن مرتد ہو جائے تو گو پہلے خدا کا اس کے ساتھ وعدہ جنت کا تھا مگر اب وہ دوزخ کے وعدہ کا مستحق ہو جائے گا۔اسی طرح اگر ایک ہند و بعد میں مسلمان ہو جائے تو گو اس کے ساتھ پہلے وعدہ جہنم کا تھا۔مگر اب تبدیلی حالات کی وجہ سے وہ جنت کا مستحق بن جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تبدیلی حالات کا ذکر براہین احمدیہ حصہ چہارم کے ٹائیٹل پیج کے آخری صفحہ پر زیر عنوان ”ہم اور ہماری کتاب فرمایا ہے۔۲۔حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات آنے کا وعدہ کر گئے مگر حسب وعدہ نہ آئے۔دوسرے دن جب آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا۔"لَقَدْ كُنتَ وَعَدَتَّنِي أَنْ تَلْقَانِي فِي الْبَارِحَةِ قَالَ أَجَلُ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ۔“ (مشكوة كتاب اللباس باب التصوير الفصل الاوّل) کہ آپ تو کل آنے کا وعدہ کر گئے تھے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں وعدہ تو کر گئے تھے مگر ہم ایسے مکان میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں کتا یا صورت ہو۔عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَتِ الْيَهُودُ لِقُرَيْشٍ اِسْأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَ عَنْ أَصْحَابِ الْكَهْفِ وَذِي الْقَرْنَيْنِ فَسَتَلُوهُ فَقَالَ ابْتُونِى غَدًا أُخْبِرُكُمْ وَلَمْ يَسْتَثْنِ فَابْطَا عَنْهُ الْوَحْيُ بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ وَ كَذَّبَتْهُ قُرَيْضٌ۔( تفسیر کمالین برحاشیه جلالین زیر آیت و يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ بنی اسرائیل: ۸۵) مجاھد سے روایت ہے کہ ایک دفعہ یہودیوں نے قریش سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم