مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 615 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 615

615 جملہ خبریہ مولوی ثناء اللہ صاحب کہا کرتے ہیں کہ آخری فیصلہ“ (مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۷۹ از الشركة الاسلامیۃ ) کے اشتہار میں سب جملے خبر یہ ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اشتہار بطور پیشگوئی کے ہے۔نیز حضرت کا الہام ہے اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ الہام مورخه ۱۳ اپریل ۱۹۰۷ ء تذکره صفحه ۲۴ مطبوع ۲۰۰۴، مطبوعہ بدر جلد ۶ نمبر ۱۶- ۱۸ اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۳ والحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ صفحه ۲) ا۔اس کا جواب یہ ہے جب حضرت نے اس میں صاف طور پر لکھدیا ہے کہ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے فیصلہ چاہا ہے۔پھر اس کو کس طرح پیشگوئی قرار دیا جاسکتا ہے؟ اور پھر دعا کو ”جملہ خبریہ قرار دینا بھی شاء اللہ جیسے عالم کے سوا اور کسی کا کام نہیں کیونکہ دعا کبھی جملہ خبریہ نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ہمیشہ ”جملہ انشائیہ ہوتا ہے۔۲۔حضرت کا الہام أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ۔۔۔اگر فرض کر لیا جائے کہ وہ اس دعا کے متعلق ہے تو پھر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا کیونکہ جیسا کہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ یہ دعائے مباہلہ تھی جس کا نتیجہ اس صورت میں نکلنا تھا کہ فریقین اس پر متفق ہو جاتے اور اس کی منظوری کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ اگر فریق ثانی نے اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیا تو یقیناً یقیناًوہ ہلاک ہو جائے گا۔جیسا کہ آنحضرت نے نجران کے مفرور عیسائیوں کے متعلق فرمایا ہے کہ لَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا ( تفسیر کبیر رازی زیر آیت نمبر ۶۲ سورۃ آل عمران) گویا آنحضرت کی طرف سے جو دعا لعنَتَ اللهِ عَلَى الكَذِبِينَ (آل عمران : ۶۲) قرآن مجید میں مذکور ہے اس کو اللہ تعالی نے قبول فرما لیا۔اور اگر عیسائی اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیتے تو وہ یقیناً یقیناً ہلاک ہو جاتے۔لطیفہ ثناء اللہ :۔آپ لوگ تو مجھ کو ابوجہل کہا کرتے ہیں۔خدا نے مرزا صاحب کی دعا کے اثر کو ابو جہل کی خواہش کے مطابق کیوں بدل دیا ؟ ابو جہل تو آنحضرت سے پہلے مر گیا تھا۔احمدی:۔اگر محض یہ دعا ہوتی تو نہ گلتی۔وہ دعائے مباہلہ تھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق بچے کے بالمقابل جھوٹے فریق کی منظوری بھی ضروری ہے (جس کی تفصیل او پر مذکور ہے ) لیکن ابو جہل اول نے تو بددعا کی تھی کہ اے اللہ اگر آنحضرت سچے ہیں تو مجھ کو ہلاک کر۔اس سے وہ ہلاک ہو گیا تم بھی ذرا اسی قسم کی بددعا کرو، پھر اگر بچ جاؤ تو ہم تمہیں ابوجہل نہیں کہیں گے۔تم