مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 616
616 ’ابوجہل“ کے لقب پر فخر کیا کرتے ہو، ذرا ابو جہل کی مماثلت کو پورا بھی کرو تو بات ہے۔بددعا کر کے پھر بیچ کر یہ ثابت کیوں نہیں کر دیتے کہ درحقیقت تم ابو جہل نہیں ہو؟ ایک اور ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات تک مولوی ثناء اللہ اشتہار آخری فیصلہ کو دعائے مباہلہ “ اور ”مسودہ مباہلہ ہی سمجھتارہا۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء( تاریخ دعا) سے ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو حضرت مسیح موعود کی وفات سے چند دن پہلے اپنے ایک مضمون میں جو مرقع قادیانی میں پہلی جون کو چھپا لکھتا ہے :۔”مرزائی جماعت کے جوشیلے ممبرو! اب کس وقت کے منتظر ہو۔تمہارے پیر مغاں کی مقرر کردہ مباہلہ کی میعاد کا زمانہ تو گزر گیا۔(مرقع قادیانی یکم جون ۱۹۰۸ء صفحه ۱۸) گویا وہ اس اشتہار کو دعا مباہلہ ہی قرار دیتا ہے مگر کہتا ہے کہ دیکھ لو میں ایک سال میں نہیں مرا اور نہ مرزا صاحب فوت ہوئے۔لہذا وہ دعا بے اثر گئی لیکن جب بعد ازاں حضور فوت ہو گئے تو جھٹ کہنے لگ گیا کہ مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا صاحب فوت ہوئے ہیں۔اس پر جب اسے پکڑا گیا کہ مباہلہ تو اس صورت میں ہوتا کہ تم بھی اس کا اقرار کر کے بددعا کرتے ،تو ( اپنی غلطی محسوس کرتے ہوئے ) جھٹ پینترا بدلا۔اور اب یہ کہتا ہے کہ وہ مباہلہ کی دعا نہیں تھی، بلکہ یک طرفہ دعا تھی۔سچ ہے جیسا کہ حضرت فرماتے ہیں۔بد گمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا ور نہ تھے میری صداقت پر برا ہیں بیشمار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۱ و در نشین اردو صفحه ۱۲۰) ۴۔اپنی عمر کے متعلق پیشگوئی حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے فرمایا: - ثَمَانِينَ حَوْلًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ (الهام ۱۸۲۵ء متذکره صفحه ۵ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) کہ تیری عمر اسی برس یا اس کے قریب ہوگی حضور فرماتے ہیں۔” جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندراندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۱۳۱)