مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 614 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 614

614 منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دوہرا نا شروع کر دیا۔“ (ایضاً صفحه ۶۴) مندرجہ بالا تینوں اقتباسات سے صاف طور پر عیاں ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اشتہار ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو مسودہ اور دعائے مباہلہ ہی قرار دیا ہے اور ثناء اللہ کے انکار کو انکار مباہلہ کے لقب سے موسوم کیا ہے۔پس ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ حضرت نے اس کو دعائے مباہلہ قرار نہیں دیا سرتا سر دھوکہ ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حافظ محمد حسن مرحوم اہلحدیث لاہور کے مطالبہ کے جواب میں مندرجہ ذیل حلفی بیان دیا:۔د میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں کہ مجھے کامل یقین ہے کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ پر اس اعلان کے مطابق آتے جو آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خلاف ۱۹۰۷ء میں کیا تھا تو وہ ضرور ہلاک ہوتے ، اور مجھے یہ یقین ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کی وفات پر جو میں نے مضمون لکھا تھا اس میں بھی لکھ چکا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے متعلق جو کچھ حضرت مسیح موعود نے لکھا تھا وہ دعاء مباہلہ تھی۔پس چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے مقابل پر دعا نہیں کی بلکہ اس کے مطابق فیصلہ چاہنے سے انکار کر دیا وہ مباہلہ کی صورت میں تبدیل نہ ہوئی اور مولوی صاحب عذاب سے ایک مدت کے لئے بچ گئے۔میری اس تحریر کے شاہد میری کتاب ”صاقوں کی روشنی از حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد خلیفتہ المسیح الثانی ( ایڈیشن اول ۲ جولائی ۱۹۰۸ء شائع شدہ) کے یہ فقرات ہیں :۔مگر جب کہ اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح سے بدل گیا تو اس نے منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دہرانا شروع کر دیا۔نیز اگر وہ ایسا کرتا تو خداوند تعالیٰ اپنی قدرت دکھلاتا اور ثناء اللہ اپنی گندہ دہانیوں کا مزہ چکھ لیتا۔“ ( صادقوں کی روشنی صفحہ ۳۰) غرض میرا یہ ہمیشہ سے یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود کی دعا دعاء مباہلہ تھی لیکن بوجہ اس کے کہ مولوی صاحب نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا وہ دعاء مباہلہ نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طریق کو بدل دیا۔“ خاکسار مرزا محمود احمد ۱۶۳