مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 366
366 سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض۔اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے۔پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں آپ پر سلسلہ نبوت مختم ہو جاتا ہے غرض آپ جیسے نبی الامہ ہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی ہیں۔اور یہی وجہ ہوئی کہ شہادت وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ۔۔۔۔الخ (ال عمران :۸۲) اور انبیاء کرام علیہم السلام سے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اتباع اور اقتدا کا عہد لیا گیا ادھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو میرا ہی اتباع کرتے علاوہ بریں بعد نزول حضرت عیسی کا آپ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں:۔تحذیر الناس از مولونا محمد قاسم نانوتوی صفحه ۳ ۴۰ مطبع کتب خانہ رحیمیہ دیو بند سہارنپور ) جیسے خاتم بفتح التاء (یعنی مہر۔خادم ) کا اثر اور نقش مختوم علیہ پر ہوتا ہے۔ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے۔“ حاصل مطلب آیہ کریمہ ( وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِینَ۔خادم ) اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوت معروفہ تو رسول اللہ صلعم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوۃ معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النبیین شاہد ہے کیونکہ اوصاف معروض و موصوف بالعرض۔موصوف بالذات کے فرع ہوتے ہیں۔موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کی اصل ہوتا ہے اور وہ اس کی نسل۔۔۔سو جب ذات با برکات محمدی صلی اللہ علیہ وسلم موصوف بالذات بالنبوۃ ہوئی اور انبیاء باقی موصوف بالعرض تو یہ بات اب ثابت ہو گئی کہ آپ والد معنوی ہیں اور انبیاء باقی آپ کے حق میں بمنزلہ اولاد معنوی اور امتیوں کی نسبت لفظ رسول اللہ میں غور کیجئے۔“ ( تحذیر الناس از مولونا محمد قاسم نانوتوی صفحه ۱۰ مطبع کتب خانہ رحیمیہ دیو بند سہارنپور ) پھر فرماتے ہیں:۔جیسے انبیاء گذشتہ کا وصف نبوت میں حسب تقریر مسطور اس لفظ سے آپ کی طرف محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج نہ ہونا اس میں انبیاء گذشتہ ہوں یا کوئی اور۔اس طرح اگر فرض کیجئے آپ کے زمانہ میں بھی اس زمین میں یا آسمان میں کوئی نبی ہو تو وہ بھی اس وصف نبوت میں آپ ہی کا محتاج ہو گا اور اس کا سلسلہ نبوت بہر طور آپ پر مختم ہوگا اور کیوں نہ ہو عمل کا سلسلہ علم پر ختم ہوتا ہے جب علم ممن للبشر ہی ختم ہو گیا تو پھر سلسلہ علم و عمل کیا چلے؟