مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 365
365 سب میں افضل سمجھتے ہیں پھر یہ آپ کا خاتم ہونا آپ کے سردار ہونے پر دلالت کرتا ہے اور بقر ینہ دعویٰ خاتمیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے یہ بات یقینی سمجھتے ہیں کہ وہ جہان کے سردار جن کی خبر حضرت عیسی علیہ السلام دیتے ہیں۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔“ (دیکھو حجتہ الاسلام مصنفہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دیو بند صفحه ۵۳ ۵۴۰ مطبع احمدی علی گڑھ ) ب۔یہی مولوی محمد قاسم نانوتوی بانی دیو بند لفظ خاتم النبیین کی تشریح بایں الفاظ فرماتے ہیں : اول معنی خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء ماسبق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللبِينَ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہو گی کہ (یعنی کیونکہ ) اس میں ایک تو خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے۔۔۔۔دوسرے رسول اللہ صلعم کی جانب نقصان قدر کا احتمال باقی یہ احتمال که یه دین آخری دین تھا۔اس لئے سد باب اتباع مدعیان نبوت کیا ہے جو کل جھوٹے دعوی کر کے خلائق کو گمراہ کریں گے البتہ فی حد ذاتہ قابل لحاظ ہے پر جمله مَا كَانَ مُحَمَّد اَبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ اور جملہ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ میں کیا تناسب تھا۔جو ایک دوسرے پر عطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو استند راک قرار دیا اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی بے ربطی اور بے ارتباطی خدا کے کلام معجز نظام میں متصور نہیں۔اگر سد باب مذکور منظور ہی تھا۔تو اس کے لئے اور بیسیوں مواقع تھے بلکہ بناء خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخر زمانی اور سدِ باب مذکور خود بخود لازم آ جاتا ہے اور افضلیت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہو جاتا ہے۔جیسے موصوف بالعرض کا وصف بالعرض کا وصف موصوف بالذات سے مکتب ہوتا ہے۔موصوف بالذات کا وصف کسی غیر سے مکتسب اور مستعار نہیں ہوتا۔مثال درکار ہو تو لیجئے !از مین و کہسا راور در و دیوار کا نور اگر آفتاب کا فیض ہے تو آفتاب کا نور کسی اور کا فیض نہیں اور ہماری غرض وصف ذاتی ہونے سے اتنی ہی تھی۔۔۔سواسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے۔یعنی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور