مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 338
338 عقیدہ رکھتی تھیں کہ نبوت کا دروازہ ہمارے نبی پر بند ہو چکا ہے۔مَا يُقَالُ لَكَ (حسم السجدة : ۴۴) کے مطابق ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی کہا جاتا۔چنانچہ لکھا ہے: الإِجْمَاعَ الْيَهُودِ عَلَى أَنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدِ مُوسى - (مسلم الثبوت از مولوی محمد فیض الحسن خوامتن صفحہ ۷ العار على شرح المحلى على جمع الجوامع جلد نمبر صفه ٢٣٢ الكتاب الثالث في الاجتماع من الادلة الشرعية مسئله الصحيح امكان الاجماع) کہ یہود کا اجماع ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ب۔حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى كَانُوا يَقُولُونَ حُصَلَ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ أَنَّ هَاتَيْنِ الشَّرِيعَتَيْنِ لَا يَتَطَرَّقُ إِلَيْهِمَا النَّسْخُ وَالتَّغْيِيرُ وَأَنَّهُمَا لَا يَجِيءُ بَعْدَهُمَا نَبِيٌّ۔(تفسیر کبیر رازی زیر آیت وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا۔الانعام (۲۲) کہ یہود اور نصاریٰ یہ کہا کرتے تھے کہ تو رات اور انجیل سے ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں شیر یعتیں کبھی منسوخ نہیں ہوں گی اور ان کے بعد کبھی نبی نہیں آئے گا۔دسویں دلیل:۔وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ ا كثر الأولِينَ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِمْ قُنْذِرِينَ (الصَّفْت: ۷۳۷۲) کہ پہلی امتوں کی جب اکثریت گمراہ ہوگئی تو ہم نے ان کی طرف نبی بھیجے۔گویا جب کسی امت کا اکثر حصہ ہدایت کو چھوڑ دے تو خدا تعالیٰ کے انبیاء ان کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تا کہ ان کو پھر صراط مستقیم پر چلا ئیں۔۲- فَبَعَثَ اللهُ النَّبِيِّنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ (البقرة : ۲۱۴) ہم نے انبیاء رسل اور کتابیں بھیجیں تا کہ وہ (نبی) ان اختلافات کا فیصلہ کریں جو ان لوگوں میں پیدا ہو گئے تھے۔ثابت ہوا کہ اختلاف اور تفرقہ کا وجو دضرورت نبی کو ثابت کرتا ہے۔- وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنِ (الجمعة: ۳) کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور آپ کی آمد سے قبل یہ لوگ صریحا گمراہی میں تھے۔