مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 339
339 گویا جب گمراہی پھیل جائے تو خدا تعالیٰ نبی بھیجتا ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : (۴۲) که خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا یعنی عوام اور علماء یا غیر اہل کتاب کی حالت خراب ہوگئی تو نبی بھیجا گیا۔ان چار آیات سے ثابت ہے کہ جب دنیا میں گمراہی پھیل جاتی ہے۔تفرقے پڑ جاتے ہیں۔پہلے نبی کی امت کا اکثر حصہ اس کی تعلیم کو چھوڑ دیتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نبی اور رسول کو مبعوث فرماتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ضلالت و گمراہی ، امت محمدیہ کے اکثر حصہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو چھوڑ دینا۔علماء اور عوام کا بگڑ نا واقع ہوایا نہیں ؟ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ وَ فِي رَوَايَةِ شِبُرًا بِشِبْرٍ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَا نِيَةٌ لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَ سَبْعِينَ مِلَّةً وَ تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَّ سَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً (ترمذى كتاب الايمان باب ما جاء في افتراق هذه الامة) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ البتہ ضرور آئے گا میری امت پر وہ زمانہ جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا۔یہ ان کے قدم بقدم چلیں گے۔یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے علانیہ اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی ہوگی تو میری امت میں سے بھی ضرور کوئی ایسا ہو گا جو یہ کرے گا۔اور بنی اسرائیل کے بہتر (۷۲) فرقے ہو گئے تھے اور میری امت کے تہتر (۷۳) فرقے ہو جائیں گے۔سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔- عَنْ عَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوْشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اِسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمُهُ مَسَاجِدُهُمُ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى عُلَمَاءُ هُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَ فِيْهِمْ تَعُودُ رَوَاهُ الْبَيْهَقِي فِي شِعْبِ الْإِيْمَانِ۔(مشكوة كتاب العلم باب الاعتصام بالكتاب والسنة)