مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 337 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 337

337 کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو کوئی دلیل عطا ہوئی ہو۔قرآن مجید میں پہلے انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے واقعات محض قصے کہانی کے طور پر بیان نہیں ہوتے بلکہ عبرت کے لئے آتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی امت کا جو یہ عقیدہ بیان کیا ہے تو اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے ؟ نیز يُضِلُّ اور يُجَادِلُونَ مضارع کے صیغے ہیں جو مستقبل پر حاوی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے : مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ (حم السجدة : ۴۴) یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے متعلق بھی وہی کچھ کہا جائے گا جو آپ سے پہلے رسولوں کے متعلق کہا گیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق جیسا کہ بتایا جا چکا ہے لن بعت الله مِن بَعْدِم رَسُولًا (المؤمن : ۳۵) کہا گیا۔مولوی عبدالستار اپنی مشہور پنجابی منظوم کتاب ( قصہ یوسف زلیخا ) لکھتے ہیں جعفر صادق کرے روایت اس و چه شک نہ کوئی اس ویلے وچہ حق یوسف دے ختم نبوت ہوئی د قصص ال محسنين (قصص الحسنین صفحه ۲۷ مطبوعہ مطبع کریمی لاہور جنوری ۱۹۳۰ ء ہے۔ایس سنت سنگھ تاجران کتب لاہور ) یعنی حضرت امام جعفر صادق روایت فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام پر نبوت ختم ہوگئی۔پس ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہی کہا جاتا کہ آپ کے بعد خدا تعالی کوئی نبی نہیں بھیجے گا۔نویں آیت:۔وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا (الجن: ۸) بعض جن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سن کر اپنی قوم کے پاس گئے تو جا کر کہنے لگے۔اے جنو! تمہاری طرح انسانوں کا بھی یہی خیال تھا کہ اب خدا تعالیٰ کسی نبی کو نہیں بھیجے گا مگر (ایک اور نبی آگیا۔) گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ سے قبل پہلے نبیوں کی امتیں یہی