مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 229
229 رسول مکرم کو نالاں کیا؟ بعد اس کے مرتبہ سید الشہداء میں چند شعر انشاء فرمائے جس کے سننے سے اہل کوفہ نے خروش واویلا واحسر تا بلند کیا۔ان کی عورتوں نے بال اپنے کھول دیئے۔خاک حسرت اپنے سر پر ڈال کے اپنے منہ پر طمانچے مارتی تھیں اور واویلا واثبورا کہتی تھیں اور ایسا ماتم بر پا تھا کہ دیدہ روزگار نے کبھی نہ دیکھا تھا۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵ صفحه ۵۰۶،۵۰۵ و ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر ۲ صفحه ۲۴۶) امام زین العابدین کی تقریر ۴۔پھر امام زین العابدین نے اہل کوفہ سے خطاب کیا اور فرمایا: میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں ! تم جانتے ہو کہ میرے پدر کو خطوط لکھے اور ان کو فریب دیا اور ان سے عہد و پیمان کیا اور ان سے بیعت کی۔آخر کار ان سے جنگ کی اور دشمن کو ان پر مسلط کیا۔پس لعنت ہو تم پر اتم نے اپنے پاؤں سے جہنم کی راہ اختیار کی اور بری راہ اپنے واسطے پسند کی۔تم لوگ کن آنکھوں سے حضرت رسول کریم حملے کی طرف دیکھو گے جس روز وہ تم سے فرمائیں گے۔تم نے میری عزت کو قتل کیا اور میری ہتک حرمت کی۔کیا تم میری امت سے نہ تھے۔“ یہ سن کر پھر صدائے گریہ ہر طرف سے بلند ہوئی۔آپس میں ایک دوسرے سے کہتا تھا ہم لوگ ہلاک ہوئے۔جب صدائے فغاں کم ہوئی ، حضرت نے فرمایا۔خدا اس پر رحمت کرے جو میری نصیحت قبول کرے سب نے فریاد کی کہ یا بن رسول اللہ ! ہم نے آپ کا کلام سنا۔ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔۔۔جو آپ سے جنگ کرے اس سے ہم جنگ کریں اور جو آپ سے صلح کرے اس سے ہم صلح کریں۔اگر آپ کہیے آپ کے ستمگاروں سے آپ کا طلب خون کریں۔حضرت نے فرمایا۔ہیہات ہیہات !! اے غدارو! اے مکارو!! اب پھر دوبارہ میں تمہارے فریب میں نہ آؤں گا اور تمہارے جھوٹ کو یقین نہ جانوں گا۔تم چاہتے ہو مجھ سے بھی وہ سلوک کرو جو میرے بزرگوں سے کیا۔بحق خداوند آسما نہائے دوّار! میں تمہارے قول و قرار پر اعتماد نہیں کرتا اور کیونکر تمہارے دروغ بے فروغ کو یقین کروں، حالانکہ ہمارے زخم ہائے دل ہنوز تازہ ہیں، میرے پدر اور ان کے اہل بیت کل کے روز تمہارے مکر سے قتل ہوئے اور ہنوز مصیبت حضرت رسول و پدر و برادر و عزیز و اقرباء میں نہیں بھولا اور اب تک ان مصیبتوں کی تلخی میری زبان پر ہے اور میرے سینے میں ان محبتوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔“ (جلاء العیون جلد ۲باب ۵ فصل ۱۵ صفحه ۵۰۷،۵۰۶)