مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 228
228 حضرت زینب و دیگر اہل بیت امام کی تقریریں ا۔بعد از واقعہ کربلا جب خاندان امام حسین کے بقیہ ممبران کو دمشق کی طرف لے جایا جارہا تھا تو جب یہ قافلہ کوفہ کے پاس سے گزرا تو کوفہ کے بہت سے لوگ دیکھنے کے لئے آئے اور ممبران اہل بیت امام حسین کو دیکھ کر رونے لگے اور ماتم کرنے لگے ، اس پر حضرت زینب ہمشیرہ حضرت امام حسین نے حسب ذیل تقریر فرمائی: اما بعد ، اے اہل کوفہ ! اے اہل غدر ومکر و حیلہ تم ہم پر گریہ کرتے ہو اور خود تم نے ہم کو قتل کیا ہے۔ابھی تمہارے ظلم سے ہمارا رونا موقوف نہیں ہوا اور تمہارے ستم سے ہمارا فریاد و نالہ ساکن نہیں ہوا اور تمہاری مثال اس عورت کی ہے جو اپنے رستہ کو مضبوط بٹی اور پھر کھول ڈالتی ہے تم ہم پر گر یہ ونالہ کرتے ہو حالانکہ خود تم ہی نے ہم کو قتل کیا ہے۔سچ ہے واللہ الا زم ہے کہ تم بہت گر یہ کرو اور کم خندہ ہو۔تم نے عیب و عار ابدی خود خرید کیا۔اس عار کا دھبہ کسی پانی سے تمہارے جامے سے زائل نہ ہوگا۔جگر گوشہ خاتم پیغمبران وسید جوانانِ بہشت کے قتل کرنے کا کس چیز سے تدارک کر سکتے ہو !۔۔۔۔اے اہل کوفہ ! تم پر وائے ہو! تم نے کن جگر گوشہ ہائے رسول کو قتل کیا اور کن با پر دے گان اہل بیت رسول کو بے پردہ کیا؟ کس قدر فرزندانِ رسول کی تم نے خونریزی کی ، ان کی حرمت کو ضائع کیا۔تم نے ایسے بُرے کام کئے جن کی تاریکیوں سے زمین و آسمان گھر گیا۔(جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵ صفحه ۵۰۳-۵۰۴ نیز ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۲۴۳ مطبوعہ لندن ) ۲۔بعد ازاں حضرت فاطمہ بنت امام حسین نے بھی اہل کوفہ کو لعن طعن کی ہے لکھا ہے : درودیوار سے صدائے نوحہ بلند ہوئی اور کہا اے دختر پاکان و معصومان۔خاموش رہو کہ ہمارے دلوں کو تم نے جلا دیا اور ہمارے سینہ میں آتش حسرت روشن کر دی اور ہمارے دلوں کو کباب کیا۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵ صفحه ۵۰۵)۔اس کے بعد حضرت ام کلثوم خواہر امام حسین نے ہودج میں سے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی: ”اے اہل کوفہ ! تمہارا حال اور مآل برا ہو اور تمہارے منہ سیاہ ہوں ! تم نے کس سبب سے میرے بھائی حسین کو بلایا اور ان کی مدد نہ کی اور انہیں قتل کر کے مال واسباب ان کا لوٹ لیا ؟ اور ان کی پر دیگان عصمت و طہارت کو اسیر کیا ؟ وائے ہو تم پر اور لعنت ہو تم پر ، کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے کیا ظلم وستم کیا ہے اور کن گناہوں کا اپنی پشت پر انبار لگایا اور کیسے خون ہائے محترم کو بہایا دخترانِ