مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 230 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 230

230 ۵۔ایک دوسری روایت میں ہے : فَقَالَ عَلِيُّ ابْنُ حُسَيْنِ بِصَوْتٍ ضَعِيفَءَ تَنُوحُوْنَ وَ تَبْكُونَ لَاجْلِنَا فَمَنْ قتلنا۔سید سجاد باواز ضعیف فرمود، ہاں اے مردم بر ما گریند و بر ما نوحہ مے کنند۔پس کشند که ما کیست؟ ما را که کشت و که اسیر کرد ( ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۲۴۳) که امام زین العابدین نے کمزور آواز سے کہا تم ہم پر نوحہ و ماتم کرتے اور روتے ہو۔تو پھر ہم کو قتل کس نے کیا ہے؟۔حضرت اُم کلثوم نے اہل کوفہ کی عورتوں کے رونے پر حمل پر سے کہا۔”اے زنان کوفہ ! تمہارے مردوں نے ہمارے مردوں کو قتل کیا ہم اہل بیت کو اسیر کیا ہے پھر تم کیوں روتی ہو؟ خداوند عالم بروز قیامت ہمارا تمہارا حاکم ہے۔“ ( جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵ صفحه ۵۰۷ و ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۲۴۸) نوٹ:۔ان سب تقاریر سے تین باتیں ثابت ہیں۔اوّل:۔قاتلین امام حسین شیعہ تھے اور حضرت امام حسین کے مبایعین تھے جیسا کہ حضرت امام زین العابدین کی تقریر میں بیعت کا لفظ بھی موجود ہے۔دوم :۔سب سے پہلے عالمگیر ماتم کرنے والے (یزید کے بعد ) خود اہل کوفہ قاتلین امام حسین ہی تھے جیسا کہ الفاظ ایسا ماتم برپا تھا کہ دیدۂ روزگار نے نہ دیکھا تھا سے ظاہر ہے۔سوم :۔موجودہ ماتم محض حضرت زینب کی بددعا کا نتیجہ ہے۔واللہ لازم ہے کہ تم بہت گریہ کرو اور مت خندہ ہو“۔سچ ہے۔قریب ہے یار روز محشر چھپے گا کشتوں کا قتل کیونکر جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا