مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 223
223 درج ہو چکی ہے۔(صفحہ ۲۲۱ پاکٹ بک بذا) ۲۔ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۲۶۹ پر درج ہے کہ یزید کو تین شخصوں نے باری باری حضرت امام حسین کی شہادت کی اطلاع دی اور ان تینوں کو یزید نے زجر و توبیخ اور تنبیہ کی۔وہ اشخاص زجر بن قیں محضر بن ثعلبہ اور شمر ذی الجوشن تھے۔زجر بن قیس نے جب قتل حسین کی اطلاع دی تو لکھا ہے کہ یزید لخته سرفرو داشت و نخن نه کرد، و بس سر بر آورد وگفت قَدْ كُنتُ أَرْضَى بِطَاعَتِكُمُ بِدُونِ قَتْلِ الْحُسَيْنِ۔أَمَّا لَوْ كُنْتُ صَاحِبُهُ لَعَفَوْتُ عَنْهُ۔اگر من حاضر بودم حسین معفومی داشتم یعنی یزید دم بخود ہونے کے باعث سکتہ میں چلا گیا اور بعد ازاں سراٹھا کر کہنے لگا کہ میں اس بات پر زیادہ راضی تھا کہ تم میرے حکم کی اطاعت کرتے اور امام حسین کو قتل نہ کرتے اور اگر میں وہاں موجود ہوتا تو انہیں چھوڑ دیتا۔اسی طرح محضر بن ثعلبہ نے اطلاع دیتے ہوئے اہل بیت امام حسین کی شان میں کچھ گستاخی کی تو یزید نے کہا: مَا وَلَدَتْ أُمُّ مَحْضَرٍ أَشَدَّ وَ اَلْتَمَ وَلَكِنْ قَبَّحَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ یعنی محضر کی ماں نے ایسا سخت ترین اور کمینہ بچہ نہ جنا ہو گا لیکن خدا ابن زیاد کا بھلا نہ کرے۔اسی طرح شمر ذی الجوشن دربار یزید میں آیا اور طالب انعام ہوا تو یزید نے اسے بھی ناکام و نامراد پھرایا اور کہا کہ خدا تیری رکاب آگ اور ایندھن سے بھر دے۔( ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۲۶۹) پہلا ماتم کرنے اور کرانے والا یزید تھا ا۔جب بعد از واقعه کر بلامبران اہل بیت امام حسین دمشق میں یزید کے ہاں بلائے گئے تو اس نے حکم دیا کہ ان کو فور أحرم سرائے ( زنانخانہ) میں لے جاؤ۔یزید کے اپنے متعلق لکھا ہے۔كَانَ بِيَدِهِ مِنْدِيلٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهُ فَاَمَرَهُمْ أَنْ يَحُولَنَّ إِلَى هِنْدَ بِنْتِ عَامَرَ فَإِذَا دَخَلْنَ عِنْدَهَا فَسُمِعَ عَنْ دَاخِلِ الْقَصْرِ بُكَاءً وَنِدَاءً وَعَوَيْلًا۔( خلاصۃ المصائب نولکشور صفحه ۳۰۲) یعنی یزید کے ہاتھ میں رومال تھا جس سے وہ اپنے آنسو پونچھتا جا تا تھا۔یزید نے کہا کہ حرم محترم