مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 224
224 کو ہند بنت عامر کے ہاں ٹھہراؤ۔چنانچہ جب وہ اندر داخل ہوئیں تو رونے اور چلانے کی صدا بلند ہوئی۔۲۔جب محذرات اہل بیت عصمت و طہارت اس ملعون ( یزید ) کے گھر میں داخل ہوئے تو عورات آل ابوسفیان (خاندان یزید ناقل) نے اپنے زیور اتار ڈالے اور لباس ماتم پہن کے آواز به نوحہ وگریہ وزاری بلند کی اور تین روز ماتم رہا۔(جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۵ صفحه ۵۲۶ ) ۳۔ہند بنت عبداللہ بن عامر جو یزید کی بیوی تھی کے متعلق لکھا ہے: اس نے پردہ کا مطلق خیال نہ کیا اور گھر سے نکل کے مجلس یزید ملعون میں جس وقت کہ مجمع عام تھا آکے کہا ، اے یزید ! تو نے سر مبارک امام حسین پسر فاطمتہ الزہرا کا میرے گھر کے دروازہ پر لٹکایا ہے۔یزید نے دوڑ کے کپڑا اس کے سر پر ڈال دیا اور کہا گھر میں چلی جا اور گھر میں جا کر فرزند رسول خدا بزرگ قریش پر نوحه وزاری کرابن زیاد نے ان کے بارہ میں جلدی کی۔میں ان کے قتل پر راضی نہ تھا (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵ صفحه ۵۲۶ - ۵۲۷) و پس اہل بیت رسول خدا کو اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی اور ہر صبح و شام امام زین العابدین کو دستر خوان پر بلاتا تھا۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵ صفحه ۵۲۶ - وناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۲۷۸ مهیج الاحزان صفحه ۳۲۸) نوٹ :۔مندرجہ بالا حوالہ میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ یزید نے حضرت امام حسین کا کاسہ سر اپنے محل کے دروازہ پر آویزاں کر دیا تھا، یہ اہل شیعہ کی دوسری روایات کے پیش نظر محض غلط اور مبالغہ آمیزی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ امام حسین کا سر مبارک کوفہ کے راستہ میں شام تک جانے سے پہلے ہی بذریعہ ایک مخلص و خیر خواہ کے نجف اشرف میں پہنچ گیا تھا۔دمشق میں تو پہنچا ہی نہیں۔فروع کافی جلد ا صفحه ۴ ۵۹ مطبع نولکشور باب موضع راس الحسين) اس فروع کافی والی روایت کو صاحب ناسخ التواریخ نے بحوالہ کتاب کامل الزیارة امام جعفر صادق سے تسلیم کیا ہے۔ناسخ التواریخ صفحه ۳۸۸ جلد ۶ کتاب ۲) ۴۔حضرت سکینہ دختر امام حسین نے ایک خواب دیکھا جو کہ یزید کے آگے بیان فرمایا۔یزید