مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 221
221 مسلم کو ہے۔تم پر سلام الہی ہو۔۔۔امابعد بدرستیکه خط مسلم بن عقیل کا میرے پاس پہنچا۔اس خط میں لکھا تھا کہ تم لوگوں نے میری نصرت اور دشمنوں سے میرا حق طلب کرنے پر اتفاق کیا ہے۔میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ اپنا احسان مجھ پر تمام کرے اور تم کو تمہارے حسن نیت وکردار پر بہترین جزائے ابرار عطا فرمائے۔بدرستیکہ میں آٹھویں ماہ ذی الحجہ روز سہ شنبہ کو مکہ سے باہر آیا اور تمہاری جانب آتا ہوں۔جب میرا قاصد تم تک پہنچے لازم ہے کہ کمر متابعت مضبوط باندھو اور اسباب کا رزار آمادہ رکھو اور میری نصرت کے مہیار ہو کہ میں اب بہت جلد تم تک پہنچتا ہوں۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ (جلاء العیون متر جم جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر۴ صفحه ۴۴۹) نوٹ:۔اس خط میں دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ا۔بقول شیعیان امام حسین کی روانگی بجانب کو فہ لڑائی اور کا رزار کے لئے تھی نہ کہ پُر امن رہنے کی نیت سے۔۲۔امام حسین کو علم غیب نہ تھا اور نہ انہیں امام مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہو سکا اور نہ اہل کوفہ کی غداری کا علم ان کو ہوا۔حالانکہ اس خط کی تحریر سے قبل امام مسلم بن عقیل انہی کو فیوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے تھے۔نزول کر بلا اور اس کے بعد جب حضرت امام حسین میدانِ کربلا میں اُترے تو ابن زیاد نے ( جو یزید کی فوج کا سپہ سالار تھا) مندرجہ ذیل مکتوب حضرت امام حسین کو لکھا: میں نے سنا ہے آپ کر بلا میں اُترے ہیں اور یزید بن معاویہ نے مجھے خط لکھا ہے کہ آپ کو مہلت نہ دوں یا آپ سے بیعت لوں اور اگر انکار کیجئے تو یزید پاس بھیج دوں“۔(جلاء العیون مترجم اردو جلد ۲باب ۵ فصل نمبر ۴ صفحه ۴۵۶) نوٹ :۔اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن یزید کی طرف سے حضرت امام حسین کو شہید کرنے کی ہدایت یا اجازت نہ تھی۔اس خط کو حضرت امام حسین نے پھاڑ دیا۔بعد ازاں جب قرۃ بن قیس کوفی آپ سے ملنے کے لئے آیا تو آپ نے فرمایا: