مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 220 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 220

220 فدا ہوں ) اپنے اہل بیت سمیت واپس لوٹ جائیے اور اہل کوفہ کے وعدے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالیں، کیونکہ وہ آپ کے والد (حضرت علی) کے وہی صحابی ہیں جن سے جُدائی کے لئے آپ کے باپ نے موت کی خواہش کی تھی۔امام حسین کی روانگی جانب کوفہ لیکن حضرت امام حسین کوفہ کی طرف بڑھتے چلے آرہے تھے۔ان کو امام مسلم کی شہادت کی خبر مقام ثعلبیہ پر پہنچی۔منزل زبالہ پر اپنے قاصد عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی خبر بھی آپ کومی۔اس پر آپ نے اپنے تمام اصحاب کو جمع کر کے فرمایا : خبر پہنچی ہے کہ مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن یقطر کو شہید کیا ہے اور ہمارے شیعوں نے ہماری نصرت سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے جسے منظور ہو مجھ سے جدا ہو جائے۔کوئی حرج نہیں ہے۔“ پس ایک گروہ جو به طمع مال و غنیمت و راحت و عزت دنیا حضرت کے رفیق ہوئے تھے ان اخبار کے استماع سے متفرق ہو گئے اور اہل بیت و خویشان آنحضرت اور ایک جماعت کہ از روئے ایمان و یقین رفیق حضرت تھے باقی رہ گئے۔خلاصۃ المصائب میں ہے: (جلاء العیون مترجم اردو جلد۲ باب ۵ فصل نمبر ۴ ۱ صفحه ۴۵۲) بَلَغَنِي خَبَرُ قَتْلِ مُسْلِمَ وَ عَبْدَ اللَّهِ ابْنِ يَقْطُرَ وَقَدْ حَذَ لَنَا شِيعَتُنَا۔( خلاصة المصائب مطبوعہ نولکشور روایت ہفتم صفحہ ۵۶) کہ مجھے مسلم اور عبداللہ بن قطر کی شہادت کی خبر پہنچی ہے اور ہم کو ہمارے شیعوں نے ہی ذلیل و بیکس کیا ہے۔نوٹ:۔اس عبارت میں قَدْ خَذَ لَنَا شِيعَتُنَا کے الفاظ خاص طور پر یا در کھنے کے قابل ہیں کیونکہ حضرت امام حسین نے اپنی زبان سے فرما دیا ہے کہ ہماری ان تمام مصیبتوں کا موجب ہمارے شیعوں کے سوا اور کوئی نہیں۔حضرت امام حسین کا خط اہل کوفہ کے نام امام مسلم بن عقیل اور عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع ملنے سے قبل حضرت امام حسین نے مندرجہ ذیل خط اہل کوفہ کو لکھا: 'بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ خط حسین بن علی کی طرف سے برادران مومن