مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 211
211 جواب:۔بیشک یہ آیت عام ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر عام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہوں جیسا کہ وَاَنْكِحُوا الْآيَا فى مِنْكُمُ (النور: ۳۳) میں باوجود یکہ خطاب عام ہے پھر بھی آنحضرت کی بیویاں اس سے مستثنیٰ ہیں۔اسی طرح يُوصِيكُمُ اللهُ (النساء: ۱۲) والی آیت میں آنحضرت کا استثناء ہوسکتا ہے اگر کوئی کہے انکحوا الا یا طی والی آیت میں اس واسطے استثناء مانتے ہیں کہ اس استثناء کا خود قرآن کریم میں دوسری جگہ ذکر ہے جہاں فرمایا وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِمَ أَبَدًا (الاحزاب: ۵۴) لیکن يُوصِيكُمُ الله والی آیت کا استثناء قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ قرآن کریم کی عمومیت میں استثناء ضر ور قرآن ہی کے ذریعہ ہو بلکہ حدیث یا تعامل کے ذریعہ سے بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرُ هُمَا (بنی اسرائیل : (۲۴) یعنی اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو اور نہ ان کو جھڑ کو ، کے حکم سے آنحضرت کا حکم عام ہے مگر اس میں آنحضرت شامل نہیں۔اور یہ استثناء قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں بلکہ واقعات سے ثابت ہے کیونکہ حضور کے والدین بچپن ہی میں فوت ہو چکے تھے۔اسی طرح يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ (النساء:۱۲) والی آیت میں جو استثناء ہے وہ آپ کی اس صحیح حدیث کی بناء پر ہے جو بخاری و مسلم بلکہ تمام صحاح میں موجود ہے۔نَحْنُ مَعَاشِرُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَرِثُ وَلَا نُورَت ( بخاری کتاب شمس باب فضائل اصحاب النبی۔مغازی فرائض۔مسند احمد بن حنبل جلد ۲ باب الالف صفحه ۴۶۳) جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔حدیث القرطاس شیعہ اور سنیوں کے درمیان ایک بحث قرطاس کے نام سے مشہور ہے اس کی بناء بخاری کی ایک حدیث پر ہے جو یہ ہے ( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي ووفاته) عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَمُوا اَكْتُبُ لَكُمْ كِتَبالَنُ تَضِلُّوا بَعْدَه، فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجْعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِ فَاخْتَلَفَ اَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرَبُوا يَكْتُبُ لَكُمُ كتباً لا تَضِلُّوا بَعْدَه وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذَالِكَ فَلَمَّا كَثُرَ اللَّغُطُ وَالْاخْتِلَافُ قَالَ