مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 210
210 آیت استخلاف جس میں صرف خلفاء کا ذکر ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے خلفاء کی ایک پہچان بتائی ہے کہ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا (النور : ۵۲) یعنی ایام خلافت میں خوف کے معاملے بھی پیش آئیں گے مگر وہ دور ہو جائیں گے وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ (النور: ۵۶) کہ ان کا دین پوشیدہ نہیں ہوگا اور فرمایا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا (النور: ۵۶ ) یعنی میری عبادت میں کسی کو شریک نہیں کریں گے۔پس اس آیت میں خلفاء کی تین علامتیں بیان فرمائی ہیں : الف۔ان سے خوف کا دور ہونا۔ب۔ان کا اپنے دین کو ظاہر کرنا۔ج۔عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا۔اگر ہم حضرت علی کو تقیہ باز سمجھیں اور ان کو پہلاخلیفہ سمجھیں تو ان تینوں میں سے کوئی علامت بھی حضرت علی میں پوری نہیں ہوتی اور حضرت ابو بکر صدیق میں یہ تینوں پوری ہوئی ہیں۔اگر تقیہ نہ ہو تو پھر تینوں باتیں حضرت علی میں پوری ہوئی ہیں۔نوٹ:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَايَةٍ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَيِنٌ بِالْإِيْمَانِ وَلَكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ (النحل: ١٠٧) اس سے یہ بات ثابت ہے کہ مکرہ کو وہ سزا نہیں ملے گی جو کفر بعد الایمان اور کافر بالشرح صدر کو ملے گی۔یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ مکرہ کلمہ کفر کہے تو جائز ہے اور گناہ نہیں۔آیت تو کہہ رہی ہے کہ گناہ ہے تبھی تو اس کا تدارک فرمایا کہ ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ الخ (النحل :(1) اگر یہ گناہ ہی نہ ہوتا تو تدارک بتانے کی کیا ضرورت تھی۔مسئلہ وراثت يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظَ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: ١٣) استدلال شیعہ:۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اسلامی قانون پیش کیا ہے کہ ہر شخص کی وارث اس کی اولاد ہے۔چونکہ تمام احکام قرآنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ مساوی طور پر شریک ہیں اس لئے اس مسئلہ میں بھی آپ کا کوئی استثناء نہیں۔بدیں وجہ حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو وراثت سے محروم کر کے ان کی حق تلفی کی۔