مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 212
212 رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُوْمُوا عَنِّى لَا يَنْبَغِي عِنْدَ النَّبِيِّ التَّنَازَعُ۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي ووفاته، کتاب العلم باب کتابتہ العلم ، کتاب الجہاد، کتاب الجزیه اخراج الیہود من جزیرۃ العرب ، کتاب المغازی) جوابا۔یہ روایت صرف ابن عباس کی ہے جن کی عمر اس وقت صرف گیارہ سال کی تھی اس لئے واقعات کے عدم انضباط کا امکان ہے۔۲۔حضور کا مخاطب کوئی خاص شخص نہ تھا۔لہذا حضرت علی وعمر عدم تعمیل کے ایک جیسے مجرم قرار پائیں گے بلکہ وہ فریق جو قلم دوات لانے کا حامی تھا وہ یقینا مجرم ہے کہ باوجود سمجھنے کے کہ حضور حکم دیتے ہیں قلم دوات نہ لائے۔۳۔نبی کریم نے فرمایا کہ قُومُوا عَنِّي لَا يَنْبَغِي عِنْدَ النَّبِيُّ التَّنَازَعُ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے قلم دوات نہ لانے کو نہیں بلکہ جھگڑا کرنے کو بُراسمجھا۔اگر حضور ضرور کچھ لکھوانا چاہتے تھے تو با وجود چار دن بعد زندہ رہنے کے کیوں نہ آپ نے لکھوا دیا۔اگر موقع نہیں ملا تو کم از کم زبانی طور پر ہی آپ لوگوں کو وہ بات بتا دیتے۔۵۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلغ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبَّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَه (المائدة: ۶۸) یعنی کوئی ایک پیغام نہ پہنچانا بھی رسالت کے منافی ہے۔پس اگر وہ قرطاس والی حدیث الہی منشاء کے ماتحت تھی اور حضور اس کو پہلے نہیں پہنچا چکے تھے تو اب آپ کا فرض تھا کہ آپ باوجود حضرت عمرؓ کے روکنے کے لکھوا دیتے یا کم از کم زبانی یہ پیغام پہنچا دیتے۔اگر کہو کہ حضرت عمرؓ کا ڈر تھا تو قرآن مجید فرماتا ہے : وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ٦٨) یعنی پیغام الہی کے پہنچانے میں تجھے کوئی ضر نہیں پہنچا سکتا۔۶۔قرطاس میں ایسی بات حضرت نے لکھوائی تھی جس سے مسلمان گمراہی سے بچیں تو اگر کسی جگہ قرآن میں لکھا ہے کہ قرآن مجید ہی ایسی کتاب ہے جس سے لوگ گمراہی سے بچ سکتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ اس قرطاس میں حضرت نے قرآن کریم ہی کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا تھا تبھی حضرت عمرؓ نے کہا حَسْبُنَا كِتَابُ اللہ اور قرآن میں ہے يُبَيْنَ اللهُ لَكُمْ أنْ تَضِلُّوا (النساء: ۱۷۷) که قرآن کریم کے ذریعہ سے لوگ گمراہی سے بچ سکتے ہیں۔ے۔آنحضرت اپنی وفات سے دوماہ پیشتر حجۃ الوداع سے واپس آتے ہوئے خم غدیر کے مقام پر تمام مسلمانوں کو جمع کر کے فرماتے ہیں۔اِنِّی تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللهِ