مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 190 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 190

190 حضرت حسین کے قبضہ میں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسیر ہو کر آئی وہ بھی جائز نہ ہوئی اور اس سے جو اولاد ہوئی اس کے متعلق کیا فتویٰ شیعہ حضرات لگائیں گے۔۲۔قیصر و کسری کے ساتھ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جو جہاد ہوا اور خدا کے حکم کے مطابق تھا جیسا کہ فروع کافی جلد ا باب مَنْ يَجِبُ عَلَيْهِ الْجِهَادُ صفہ ۶۱۲ میں ابو عمیر زبیری نے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی ہے وَإِنَّهُ لَيْسَ كَمَا ظَنَنْتَ وَلَا كَمَا ذَكَرْتَ وَلَكِنَّ الْمُهَاجِرِينَ ظُلِمُوا مِنْ جِهَتَيْنِ ظَلَمَهُمُ أَهْلُ مَكَّةَ بِإِخْرَاجِهِمْ مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ فَقَاتِلُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ لَهُمُ فِي ذَالِكَ وَظَلَمَهُمْ كِسْرِى وَقَيْصَرَ وَمَنْ كَانَ دُونَهُمْ مِنْ قَبَائِلِ الْعَرْبِ وَالْعَجُمِ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِمَّا كَانَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ فَقَدْ قَاتَلُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَالِكَ وَبِحُجَّةِ هَذِهِ الْآيَةِ يُقَاتِلُ مُومِنُوا كُلَّ زَمَانٍ ، یعنی جس طرح تو نے سمجھایا کہا (یعنی یہ کہ قیصر و کسری کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائیاں نا جائز تھیں) کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم کیا تھا۔ان پر اہل مکہ نے ان کے گھروں اور مال و دولت سے نکال کر ظلم کیا۔پس مسلمانوں نے ان کے ساتھ خدا کے حکم سے جہاد کیا۔اسی طرح قیصر و کسریٰ اور دیگر عربی و عجمی قبائل نے مسلمانوں پر ظلم کیا، اس ملک اور حکومت پر قبضہ کرنے کی وجہ سے جس پر ان سے زیادہ مسلمانوں کا حق تھا۔پس مسلمانوں نے ان کے ساتھ خدا کے حکم کے ساتھ جنگ کی اور اسی آیت کے مطابق (یعنی أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظلِمُوا (الحج: ۴۰) ہر زمانہ کے مسلمان جہاد کرتے ہیں۔۳۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے وقت پہلی مرتبہ پتھر پر کدال مار کر فرمایا۔اللہ اکبر فارس کے ملک کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔(دیکھو حیات القلوب جلد ۲ صفحہ ۳۷۶ نولکشور و ناسخ التواریخ کتاب ۲ جلد اصفحه ۲۱۶ مطبوعہ ایران ) یہ کنجیاں حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں دی گئیں۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو اپنا قائم مقام قرار دیا ہے۔حضرت ابوبکر و عمرہ کی فضیلت - وَكَانَ أَفْضَلَهُمْ زَعَمْتَ فِى الإِسْلامِ وَانْصَحَهُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْخَلِيفَةَ وَالْخَلِيفَةُ الْخَلِيْفَةِ وَلَعَمُرِ وَإِنَّ مَكَانَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ لَعَظِيْمٌ وَإِنَّ الْمَصَائِبَ بِهِمَا لِجُرُحٍ فِي الْإِسْلَامِ شَدِيدٌ فَرَحِمَهُمَا اللَّهُ وَجَزَاهُمَا اللَّهُ اَحْسَنَ مَا عَمَلًا (شرح نهج البلاغه جلد ۲