مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 168
168 یعنی میر بابر کی چڑھائی کوسن کر کروڑوں پیر اس کو روک کر رہ گئے اور جنم ساکھی بالا صفحہ ۴۰۰ میں باہر کے لئے ”میر لفظ آیا ہے اور مکند“ کا ترجمہ ہے مکتی داتا اور کرشن۔پس صاف ظاہر ہے کہ نہہ کلنک اوتار کا ظہور مغل کے جامہ میں ہی ہوگا۔پھر لکھا ہے: ( آدگرنتھ صاحب صفحه ۸۳۹) کل کلوالی شرع نبیڑی قاضی کرشنا ہو آ، بابا نانک صاحب فرماتے ہیں کہ کلجگ کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کے لئے شری کرشن جی قاضی کے روپ میں برگٹ ہوں گے۔بابانا تک صاحب فرماتے ہیں: آؤ پر کتے کو اللہ کہیے شیخاں آئی واری دیول۔دیوتیاں کر لاگا ایسی کیرت چالی کوزه ها نگ نماز مصلا نیل روپ بنواری گھر گھر میاں سبھناں جیاں بولی اور تماری جے تو میر مہمیت صاحب قدرت کون جاری چارے کونٹ سلام کریں گے گھر گھر صفت تماری تیرتھ سمرت ئن دان کچھ لاہا ملے دیہاڑی نانک نام ملے وڈیائی میکا کھڑی سمائی بسنت منڈول محلہ اصفحہ ۱۹۰ اگرنتھ صاحب آد) ترجمہ:۔اب آؤ پر کھ کو اللہ کہا جائے شیخوں کی باری آگئی ہے۔مندر اور دیوتوں پر (خدا نے) ٹیکس لگا دیا ہے۔یہی رواج ہو گیا ہے۔اے اللہ کوزه ، بانگ نماز ، مصلا ، نیل روپ ورے بنواری یعنی کرشن کے سپرد کیا ہے اور ہر گھر میں میاں میاں اور ہر ایک زبان پر یہی ہے اے اللہ تیری بولی بھی اور ہوگئی ہے اگر تو نے میر یعنی میرزا کو زمین کا مالک بنایا ہے تو ” قدرت کون ہماری ہماری کیا طاقت ہے یعنی ہم کون ہیں۔اس کو چارے کونٹ سلام کریں گے اور گھر گھر میں تیری صفت ہوگی۔تیرتھ پر جانے اور پن دان کرنے سے جو پھل مالتا تھا وہ ایک گھڑی میں مل گیا۔نوٹ :۔یادر ہے بنواری یا بن والی یہ شری کرشن جی کا نام ہے (مہمان کرشن صفحہ ۲۵۰۸) بابا نانک صاحب فرماتے ہیں :۔صفحہ ۲۳ آون اٹھترے جان ستا نویں ہو ر بھی اُٹھ سی مرد کا چیلہ“ آدگرنتھ صاحب صفحہ ۲۳ ۷ یعنی با بر مغل نے ۱۵۷۸ بکرمی میں ایمنا آباد پر حملہ کیا اور ۱۷۹۷ بکرمی میں مغل راج کا خاتمہ ہو جائے گا۔( توایخ گر و خالصہ صفحہ ۱۳۴ مصنفہ گیانی گیان سنگھ ) ”ہور بھی اُٹھ سی مرد کا چیلہ“ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک مغل پہلے ہے اور ایک اور اٹھے گا۔پر کے ارتھ پر کرن کے مطابق ہوتے ہیں۔مضمون بابر کا ہے اور وہ ”مرد کا چیلہ بھی باہر کی طرح مغل ہی ہونا چاہیے۔