مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 56
56 56 ہے وہ ایشو ر اس کا ( دنیا کا بنانے والا ) دنیا میں محیط ہو کر دیکھ رہا ہے۔“ بھاشیہ بھوم کا ہندی صفحه ۱۲۲، بحوالہ پیجر وید۳۰/۲)۔’دیوتاؤں کے پہلے یگ میں نیستی سے ہستی پیدا ہوئی۔( یعنی دیوتاؤں سے پیشتر زمانہ میں نیستی سے ہستی پیدا ہوئی۔(رگوید منڈل نمبر ۱۰) پر کرتی وغیرہ اعلیٰ ولطیف کا ئنات اور گھاس مٹی چھوٹے کیڑے مکوڑے وغیرہ ادنی مخلوقات نیز انسان کے جسم سے لے کر اکاش تک متوسط درجہ کی کائنات یہ تینوں قسم کی دنیا پرش (پرمیشور ) نے اپنی قدرت سے پیدا کیں۔“ چیز تھی۔“ اتھرون وید کا نڈ نمبر ۱۰ انوواک نمبر ۴ منتر نمبرے منقول از بھومکا) ے۔اس کا ئنات سے پہلے صرف ایک آتما ( پرمیشور ) ہی تھا اور کوئی دوسری ( قابل تمیز ) رگ وید آدی بھاشیہ بھوم کا صفحہ ۵۳ منقول از نیک اُپنشد ادھیائے نمبرا۔کھنڈ نمبرا۔اصلاح وید پر بحث ) اس سے پہلے محیط کل پر پر میشور ہی تھا۔“ ۹۔اس سے پہلے دنیا کچھ بھی نہ تھی۔“ شت پتھ برہمن کا نڈ نمبراا۔ادھیائے رگوید صفحه ۵۳) شت پچھ برہمن کا نڈ نمبرا ادھیائے رگوید صفحه ۵۳) ۱۰۔چونکہ وہ پر میشور آن یا مٹی وغیرہ کل کائنات فانی سے الگ اور جینے مرنے سے مبرا ہے اس لئے وہ بذاتہ غیر مولود اور سب کو پیدا کرنے والا ہے۔وہی (خدا) اس کائنات کو اپنی قدرت سے بناتا ہے اس کی کوئی علت نہیں ہے بلکہ سب کی علت اولین علت فاعلی اسی پر میشور کو جاننا چاہیے۔“ (رگوید بھاش بجوم کا صفحه ۷۳ ) الہ اے عزیز و اپر میشور اس دنیا میں پیشتر موجود تھا۔وہ اپنی ذات سے ایک اور بے عدیل تھا۔‘ ( اس حوالہ سے صاف معلوم ہو گیا کہ سب سے اوّل صرف پر میشور ہی اکیلا اور بے عدیل تھا۔اگر روح و مادہ بھی اس کی طرح قدیم ہوتے تو ان کا ساتھ ہی ذکر ہوتا )۔(رگ وید آدی بھوم کا اردو صفحه ۵۳ متر جم نہال سنگھ ) ۱۲۔پر لے (قیامت) کے وقت یہ کائنات اسی کی قدرت میں سما جاتی ہے۔(بھوم کا اردو صفحه ۷۳)