مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 57 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 57

57 ۱۳۔اور اُسی کی قدرت سے پھر یہ کائنات دوبارہ پیدا ہوتی ہے۔(ایضا) ۱۴۔یہ تمام کاروبار عالم اور روئے زمین تیری قدرت میں اس طرح قائم ہے جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے۔(بھوم کا اردو صفحہ ۱۸۷) ۱۵۔وہی تمام دنیا کا پیدا کرنے والا ، قائم رکھنے والا ، فنا کرنے والا۔“ (ستیارتھ پرکاش بے دفعہ ۳) " ۱۲۔مجھ پر میشور کو ہی ساری دنیا کا پیدا کرنے والا سمجھو (ستیارتھ پرکاش ب ۷ دفعہ ۸) کا وہ بآسانی تمام بلا امداد غیرے تمام دنیا کو بناتا ہے تو پھر ساتھ ہی اس کو روح اور مادہ کا محتاج ٹھہرانا دو متضاد با تیں ہیں۔“ (ستیارتھ پرکاش بے دفعہ ۷ تا ۹ ) ۱۸۔اس جہان میں جو کچھ ہے اس تمام مخلوق کا بنانیوالا ہوں۔‘“ (ستیارتھ پرکاش بے دفعہ ۸ ) ۱۹۔ُاس (خدا) کے دل میں خواہش ہوئی کہ اپنے بدن سے اس قسم کی خلقت پیدا کرنی چاہیے۔تو اُس نے پہلے پانی (رج) کو پیدا کیا پھر اس نے پانی میں بیج ڈالا۔“ (منوا دھیائے اشلوک ۸ منوسمرتی ۱٫۹) ۲۰۔چونکہ وہ متحرک اور ساکن جہان کو زندہ اور قائم رکھتا ہے اس واسطے وہ تمام قادروں سے (ستیارتھ صفحہ ۱۴-۴۲-۱/۳۹) ۲۱۔جو چیز ترکیب سے پیدا ہوتی ہے وہ ازلی ابدی کبھی نہیں ہوسکتی اور فعل بھی پیدائش اور قادر ہے۔فنا سے آزاد نہیں ہے۔“ (ستیارتھ پرکاش ب ۸ دفعہ ۲۸) ۲۲- رُوح میں ترکیب و تفریق ہے۔(ستیارتھ پر کاش ب ۷ دفعہ ۵۳) الہذا روح حادث ثابت ہوئی۔روح و مادہ۔زمانہ وخلا کے غیر حادث ہونے پر نو اعتراضات منطقی وعلمی ہم صرف صانع کو قدیم اور غیر حادث مانتے ہیں مگر آر یہ لوگ صانع کے علاوہ رُوح و مادہ زمانہ اور مکان یعنی خلا کو بھی قدیم مانتے ہیں۔دیکھو! اعقائد آریہ منتو یا انادی پدارتھ صفحہ ۷۴۶۔اعتراضات:۔(۱) کہ سوائے صانع کے دوسروں کو قدیم ماننے سے صانع کی ضرورت