مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 876
876 ابو مجاہد سے مروی ہے کہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ماجد ) نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی میراث سے حصہ شرعی نہیں لیا بلکہ اپنے پوتے ہی کو دے دیا۔آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد چھ مہینے اور چند یوم تک ہی زندہ رہے۔“ تاریخ الخلفاء مترجم موسومه به محبوب العلماء شائع کردہ ملک غلام محمد اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور مطبوع مطبع پبلک پرنٹنگ پر لیس صفحه ۴ ۱۰ فصل وفات ابوبکر) ایک ناقابل تردید ثبوت:۔یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے بلکہ ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء تک پنجاب کے تمام اضلاع میں مغل قوم کے تمام افراد شریعت کی بجائے رواج زمیندارہ کے پابند تھے مگر رواج عام پنجاب کی مشہور و معروف اور مستند ترین کتاب The Digest of Customary Law پنجاب کا رواج زمینداره) مصنفہ Sir W۔H۔Rattigan سر ڈبلیو۔ایچ۔ریٹیگن) کے گیارھویں ایڈیشن مطبوعہ ۱۹۲۹ء کے صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے:۔The family of the Mughal Barlas of Qadian, Tehsil Batala, is governed by Muhammadan Law۔د یعنی قادیان کا مغل برلاس خاندان رواج زمیندارہ کا نہیں بلکہ قانونِ شریعت کا پابند ہے۔“ اب دیکھنا چاہیے کہ پنجاب کے تمام مغلوں میں سے صرف قادیان کے اس مغل خاندان کو شریعت کے پابند ہونے کا فخر کیونکر حاصل ہو گیا ؟ جبکہ حضرت مسیح موعود کی بعثت سے قبل یہ خاندان بھی دوسرے مغل خاندانوں کی طرح رواج زمیندارہ ہی کا پابند تھا تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ حضرت مسیح موعود ہی کے احیائے شریعت کے عظیم الشان کارنامہ کا ایک پہلو ہے۔پس بجائے اس کے کہ حضرت کے اس کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا حاسد بد ہیں اب بھی اعتراض کرنے سے باز نہیں آتا۔یہ حقیقت ہے کہ حضور کی بعثت سے قبل حضور کا خاندان شریعت کی بجائے رواج کا پابند تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حضور کی بعثت کے بعد یہ خاندان ( تمام باقی مغل خاندانوں سے بالکل منفرد ہوکر ) شریعت کا پابند ہوگیا۔کیا یہ تغیر مرزا کمال دین اور نظام دین کی کوششوں کے نتیجہ میں ہوا؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر مانا پڑے گا کہ یہ حضرت مسیح موعود کی قوت قدسیہ کا نتیجہ تھا کہ ” ابنائے فارس‘ نے ابد تک کے لیے احیائے شریعت کا علم