مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 877 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 877

877 اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے ۳۲۔ایک بیٹے کے دوباپ یا ایک بیوی کے دو خاوند احراری مقررین اپنے جوش خطابت میں جو جی میں آئے احمدیت کے خلاف اناپ شناپ کہتے چلے جاتے ہیں۔اس قسم کی بے سروپا باتوں میں سے ایک احسان احمد شجاع آبادی کے الفاظ میں یہ ہے:۔”ایک نبی کی امت کے۷۲ فرقے ہو سکتے ہیں۔لیکن جس طرح ایک بیوی کے دو خاوند نہیں ہو سکتے ، اسی طرح ایک قوم کے بیک وقت دو پیغمبر نہیں ہو سکتے۔“ تقریر شجاع آبادی احراری مندرجہ اخبار تعمیر نو گجرات تبلیغ نمبر ۵ دسمبر ۱۹۴۹ء۔صفحہ ۷ کالم نمبر۱) احراری مقررین کے اس قسم کے لغو اعتراضات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور خیال آتا ہے کہ خدایا! کیا یہ لوگ فی الحقیقت اپنی ان باتوں کو درست بھی سمجھتے ہیں؟ یا کیا ان لوگوں کا مبلغ علم اسی حد تک محدود ہے کہ جس طرح ایک بیوی کے دو خاوند نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک قوم کے بیک وقت دو پیغمبر نہیں ہو سکتے۔کیا ان لوگوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ بنی اسرائیل میں بیک وقت حضرت موسیٰ“ اور حضرت ہارون دو نبی تھے ؟ حضرت عیسی اور حضرت بی بیک وقت نبی تھے۔حضرت یعقوب اور حضرت یوسٹ بیک وقت نبی تھے۔حضرت ابراہیم۔حضرت اسمعیل اور حضرت الحق علیہ السلام بیک وقت نبی تھے۔پھر یہ لوگ کس بنا پر یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ کسی قوم میں بیک وقت دو پیغمبر نہیں ہو سکتے ؟ اور کس عقل کی بنا پر یہ لوگ ایک بیوی کے دو خاوند یا ایک بیٹے کے دوباپ کی بے معنے مثال پیش کرتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون کے بیک وقت ایک ہی قوم میں نبی ہونے سے کوئی حرج واقعہ نہیں ہوتا کیونکہ اگر چہ وہ دونوں براہ راست نبی تھے لیکن چونکہ شریعت موسیٰ علیہ السلام کی تھی اور حضرت ہارون ان کے تابع تھے۔اس لیے نہ باپوں والی مثال ان پر صادق آتی ہے نہ دو خاوندوں والی ! لیکن حضرت بانی سلسہ احمدیہ پر تو یہ مثال کی طور پر بھی صادق نہیں آسکتی کیونکہ حضرت مرزا صاحب۔حضرت ہارون علیہ السلام کی طرح براہ راست نبی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے