مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 875
875 ج۔حضرت زکریا نے خدا سے دعا کی کہ اے خدا! مجھے بیٹا عطا کر جو يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ (مریم: ۷) کہ وہ بیٹا میرا اور یعقوب کے گھرانے کا وارث ہو۔إِنَّ الْمُرَادَ مِنْ وِرَاثَةِ الْمَالِ ( لوزی جلد ۲ صفحه ۹۲) دوسرے سوال کا جواب :۔تمہارا یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود کی بیٹیوں کو ورثہ نہیں ملا سفید جھوٹ ہے۔کاغذات مال اس امر کے گواہ ہیں کہ حضرت اقدس کی دونوں بیٹیوں کو شریعت اسلام کے عین مطابق پورا پورا حصہ دیا گیا اور وہ اپنے اپنے حصوں پر قابض ہیں۔یوں ہی اپنے پاس سے گھڑ گھڑ کے جھوٹے اعتراض کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ نیز دیکھو کتاب حضرت مسیح موعود کے کارنامے صفحہ ۱۱۸، باقی رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی یا نہیں کہ لڑکیوں کو ورثہ دینا چاہیے تو اس کا جواب یقیناً اثبات میں ہے۔مندرجہ ذیل حوالجات ملاحظہ ہوں۔ا۔عام تعلیم کہ قرآن مجید کے تمام حکموں پر عمل کرو۔(کشتی نوح صفحه ۲۴،صفحہ۲۵ طبع اول و ایام الصلح صفحه ۸۶، صفحه ۸۷) ۲۔خاص مسئلہ وراثت یا لڑکیوں کو حصہ دینے کے متعلق۔۔فاسقہ کے حق وراثت کے متعلق فتویٰ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۱) ( بدر جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ کالم نمبر ۳ وفتاوی احمد یه صفحه ۱۴۹ مطبوعہ ۱۰ر ستمبر ۱۹۳۵ء) ۴۔بیوی کی وفات پر مہر شرعی حصص کے ساتھ تقسیم کیا جائے۔(فتاوی احمد یه صفحه ۱۴۸، مطبوع ۱۰ ستمبر ۱۹۳۵ء) ۵۔نیز دیکھو آر یہ دھرم صفحه اتا صفحه ۷۸ طبع اول و مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۱۴۳ تا ۱۸۸-۱۸۸۸ء ۶۔ورثہ کے متعلق۔۔قرآن شریف نے مرد سے عورت کا حصہ نصف رکھا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ نصف اس کو والدین کے ترکہ میں سے مل جاتا اور باقی نصف وہ اپنے سسرال میں سے جالیتی ہے۔( الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۸ کالم۳) غیر احمدی:۔حضرت اماں جان نے آپ کی وفات کے بعد وراثت میں سے کیوں حصہ نہ لیا ؟ جواب:۔بر بنائے تسلیم۔اپنے حق کو اپنی مرضی اور خوشی سے ترک کر دینا اعلیٰ اخلاق میں سے ہے نہ کہ قابل اعتراض۔مثال ملاحظہ ہو :۔حضرت امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔