مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 824
824 فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْوُفًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَ لَيْسَ مَعَهُمْ كِتَابٌ إِنَّمَا بُعِثُوا بِإِقَامَةِ التَّوْرَاةِ وَ اَحْكامِهَا۔( تفسیر خازن زیر آیت يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ المائدة: ۴۵) کہ آیت يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ “ میں نبیوں سے مراد وہ نبی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ہزاروں نبی ایسے بھیجے کہ جن کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔بلکہ وہ محض تو راہ اور اس کے حکموں کو قائم کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔۱۲۔مولوی اشرف علی صاحب تھانوی لکھتے ہیں:۔” پھر ان کے بعد اور رسولوں کو ( جو کہ صاحب شریعت مستقلہ نہ تھے ) یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسی ابن مریم کو بھیجا۔“ حمائل مترجم اشرف علی تھانوی مطبوعہ دہلی زیر آیت شش قفينا على اثارِهِمْ بِرُسُنا (الحديد: ۲۸) ۱۳ - يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِيْنَ أَسْلَمُوا کے نیچے لکھا ہے:۔اوپر ذکر تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء بھیجے جو ہمیشہ احکام تو رات کی حکم برداری میں خود بھی لگے رہتے اور بنی اسرائیل کے عابدوں اور عالموں کو بھی ان کی تاکید کرتے۔ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بقدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے عیسی بن مریم کو تو رات کے احکام کی تصدیق و نگرانی کے لئے بھیجا۔“ حمائل مترجم اشرف على المائدة : ۴۵) مرزا صاحب پر کفر کا فتویٰ لگا ؟ ۱۰۔کفر کا فتویٰ جواب:۔ا۔ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا۔قرآن مجید میں ہے۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَ (يس: ۳۱) ۲۔وَ إِذَا خَرَجَ هَدَ الْإِمَامُ الْمَهْدِى فَلَيْسَ لَهُ عَدُوٌّ مُّبِينٌ إِلَّا الْفُقَهَاءُ خَاصَّةً فَإِنَّهُ لَا تَبْقَى لَهُمْ رِيَاسَةٌ۔وَلَا تَمِييُزٌ عَنِ الْعَامَّةِ۔“ (فتوحات مکیه از محی الدین ابن عربی جلد ۳ صفحه ۳۳۶ مطبع دار صا در بیروت )