مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 825
825 کہ جب امام مہدی آئیں گے تو اس کے سب سے زیادہ شدید دشمن اس زمانہ کے علماء اور فقہاء ہوں گے۔کیونکہ اگر مہدی کو مان لیں تو ان کی عوام پر برتری اور ان پر امتیاز باقی نہ رہے گا۔۳۔علماء وقت کہ خوگر تقلید فقہا و اقتدائے مشائخ و آبائے خود باشند گویند که این شخص خانہ برانداز دین وملت ماست و بمخالفت برخیزند و بحسب عادت خود محکم بتکفیر تضلیل وے کنند۔“ حج الکرامه صفحه ۳۶۳ از نواب صدیق حسن خان صاحب) ۴۔حدیث عُلَمَاءُ هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ“ (مشکوۃ کتاب العلم فصل سوم ) سے بھی یہی پتہ چلتا ہے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ امام مہدی کو میرا سلام کہنا۔(درمنثور جلد ۲ صفحه ۲۴۵ مطبع دار المعرفه بیروت لبنان و بحارالانوار جلد ۱۳ صفحه ۱۸۳ مطبوعہ ایران ) یہ بھی بتاتا ہے کہ آنحضرت کو معلوم تھا کہ ایسے لوگ بھی موجود ہوں گے جو مہدی پر لعنت بھیجیں گے۔اور اس کے تریاق کے طور پر آنحضرت صلعم نے اسے اپنا سلام بھیجا ہے۔( تفصیل دیکھو تحفہ گولڑویہ صفحه ۴۳ حاشیه ) امام ربانی مجددالف ثانی فرماتے ہیں کہ 'جب مسیح موعود آئے گا تو علماء ظواہر مجتہدات اور اعلى نبينا وعلیہ الصلوۃ والسلام از کمال دقت و غموض ماخذ، انکار نمائندو مخالف کتاب وسنت دانند “ مکتوبات امام ربانی حضرت مجددالف ثانی حصہ نمبرے مکتوب نمبر ۵۵) یعنی علماء ظواہر حضرت مسیح موعود کے اجتہادات کا انکار کریں گے اور ان کو قرآن مجید اور سنت نبوی کے خلاف قرار دیں گے کیونکہ وہ باعث دقیق ہونے اور ان کے مآخذ کے مخفی ہونے کے مولوی کی سمجھ سے بلند و بالا ہوں گے۔۔یہی حال مہدی علیہ السلام کا ہوگا کہ اگر وہ آگئے تو سارے مقلد بھائی ان کے جانی دشمن بن جاویں گے۔ان کے قتل کی فکر میں ہوں گے۔کہیں گے یہ شخص تو ہمارے دین کو بگاڑتا ہے۔“ اقتراب الساعه صفحه ۲۲۴ از نواب نور الحسن خان صاحب مطبع مفید عام الکائنہ فی آگرہ ۱۳۰۱ھ ) ے۔پھر لکھا ہے: ”ان ( امام مہدی) کے دشمن علماء اہل اجتہاد ہوں گے اس لئے کہ ان کو دیکھیں گے کہ خلاف مذہب آئمہ حکم کرتے ہیں۔ان (امام مہدی ) کا دشمن کھلم کھلا کوئی نہ ہوگا مگر یہی فقہ والے بالخصوص کیونکہ ان کی ریاست باقی نہ رہے گی۔عام لوگوں سے کچھ امتیاز نہ ہوگا“۔۔۔۔۔۔۔اقتراب الساعه صفحه ۹۵ از نواب نورالحسن خان صاحب مطبع مفید عام الکائنہ فی آگرہ ۱۳۰۱ھ ) علماءکا حربہ تکفیر ملاحظہ ہو۔(پاکٹ بک ہذا صفحه ۸۸۳)