مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 777
777 بدگمانوں سے بچایا مجھے کو خود بن کر گواہ کردیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب وجوار کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار رفضل و احسان ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۲۷) یہ سراسر پس یہ دعا ہے اور مناجات میں اللہ تعالیٰ کی مافوق التصور ہستی کے بالمقابل انتہائی تذلل و انکسار اختیار کرنا انبیاء وصلحاء کا شیوہ ہے اور اس پر اعتراض کرنا بد بختوں کا کام ہے اور دعا کا مفہوم یہ ہے کہ اے خدا! میرے دشمن مجھے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ سے عار محسوس کرتے ہیں۔گویا میں ان کی نظروں میں انسان بھی نہیں ہوں۔چنانچہ اس نظم کا ایک اور شعر ہے۔کس کے آگے ہم کہیں اس دردِ دل کا ماجرا اُن کو ہے ملنے سے نفرت بات سننا در کنار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۲۹) جواب نمبر ۳:۔حضرت ایوب علیہ السلام اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں:۔الهى ! أَنَا عَبْدٌ ذَلِیلٌ۔" ( تفسیر کبیر امام رازی جلد ۲ صفحه ۲۰۵ طبع ثانی ناشر دار الکتب العلمیة طهران ) ”اے خدا! میں ذلیل انسان ہوں“۔لیکن اگر کوئی شخص اس مناجات کی بناء پر حضرت ایوب علیہ السلام کو انہی الفاظ سے مخاطب کرے تو اس سے بڑھ کر بد بخت اور کون ہوسکتا ہے۔جواب نمبر ۴:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملاحظہ ہو:۔66 قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِنِى وَ إِنِّى ذَلِيْلٌ فَاعِزُنِي وَ إِنِّي فَقِيرٌ فَارْزُقْنِي ، (مستدرک امام حاکم بحوالہ جامع الصغیر امام سیوطی جلد اباب القاف مصری صفحه ۸۷) یعنی کہ اے خدا! میں کمزور ہوں تو مجھے طاقت دے۔میں ذلیل ہوں مجھے عزت اور غلبہ عطا فرما۔میں فقیر ہوں مجھے رزق دے۔( آمین ) جواب نمبر ۵ - اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِی وَ تَرى مَكَانِی وَ تَعْلَمُ سِرِى وَ عَلَانِيِّنِي وَلَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ اَمْرِى وَ أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ۔۔۔۔وَابْتَهِلُ إِلَيْكَ