مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 776 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 776

776 کرم خا کی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اگر یہ بد زبان احراری حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ہوتے تو یقیناً حضرت داؤد علیہ السلام کا مندرجہ بالا شعر اپنی احرار کا نفرسوں میں پڑھکر حضرت داؤد علیہ السلام پر بھی بعینہ وہی پھبتیاں کستے جو آجکل حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کستے ہیں۔نوٹ:۔زبور کا حوالہ حجت ہے۔بوجو ہات ذیل:۔ا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ جب تک تو رات یا زبور کے کسی فرمودہ کے خلاف اللہ تعالیٰ کا تازہ حکم نازل نہ ہوتا۔اس کو درست اور واجب العمل سمجھتے۔كَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةً أَهْلِ الْكِتَابِ فِيْمَا لَمْ يُؤْمَرُ فِيهِ۔(مسلم) كتاب الفضائل باب صفة شعره وصفاته وحليته ) بى اصل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ جلد ۲ صفحہ ۲ ۳۰ پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ب۔حدیث نبوی میں ہے:۔حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ“ (ترمذی کتاب العلم باب ما جاء في الحديث عن بنی اسرائیل و بخاری کتاب احادیث الانبياء باب ما ذكر عن بنی اسرائیل ومسندامام احمد مسند ابو ہریرہ حدیث ۱۳۰۔اوجامع الصغیر للسیوطی حرف الحاءحدیث ۳۱۳۱ باب الحدود ومشكواة كتاب العلم الفصل الاوّل) تر ندی میں اس حدیث کے آگے لکھا ہے: هذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔“ نیز امام سیوطی نے بھی لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے (حوالہ مذکورہ بالا) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل سے بے شک روایت لے لو۔اس میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ صحابہ مثلاً حضرت عبد اللہ بن سلام وغيرهم رضوان الله علیهم اجمعین نے تورات اور زبور سے بے شمار روایات کی ہیں اور دیگر علمائے امت نے بھی۔جواب نمبر ۲:۔یہ الفاظ انسانوں کو مخاطب کر کے نہیں بلکہ بطور مناجات و دعا اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے عرض کئے گئے ہیں۔جیسا کہ اس سے اگلے اور پچھلے اشعار سے نیز خود اس شعر میں ”میرے پیارے“ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔اے خدا اے کارساز و عیب پوش و ر کر دگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پر وردگار کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار