مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 766
766 غرضیکہ اب اس مسئلہ کے بارے میں قطعا کوئی اختلاف باقی نہیں ہے مگر افسوس ہے کہ احراری اور ان کے ہم نوا اب تک محض عوام کو دھوکہ دے کر جماعت احمدیہ کے خلاف مشتعل کرنے کی غرض سے جماعت احمدیہ پر یہ جھوٹا الزام لگاتے چلے جاتے ہیں کہ نعوذ باللہ جماعت احمد یہ جہاد کی منکر ہے۔محاذ کشمیر پر احمدی نوجوان اور احراری بوکھلاہٹ پھر یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو احراری فتنہ پرداز ہمارے خلاف یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یہ لوگ جہاد کے منکر ہیں مگر دوسری طرف جب جماعت احمدیہ کے نو جوانوں کو عملاً برسر پر کار دیکھتے ہیں تو یوں گو ہر افشاں ہوتے ہیں :۔میں ان مرزائیوں سے پوچھتا ہوں۔جب کشمیر کی حسین وادی ڈوگرہ شاہی کے پنجہ استبداد کا شکار تھی اس خطہ کشمیر جنت نظیر کی عزت و آبر ولوٹی جا رہی تھی۔ہندوستان اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان معرکة الآراء جنگ جاری تھی۔اسلام اور کفر کی ٹکر تھی اس وقت مرزائی کشمیر میں کس پوزیشن سے تشریف لے گئے تھے ؟ جب کہ دنیائے اسلام کے تمام جلیل القدر علماء اور حجاز سے لیکر پاکستان کے آخری کونے تک کے تمام مفتیانِ دین نے واضح الفاظ میں جہاد کشمیر کے سلسلہ میں فتوے صادر کئے بیانات اور تقریروں کے ذریعہ اس جہاد کی اہمیت بیان کی تو کیا اس وقت امتِ مرزائیہ کے موجودہ ڈکٹیٹر مرزا بشیر الدین صاحب محمود نے مرزا غلام احمد کے اس خلاف جہاد فتوی کی تردید کرتے ہوئے مرزائی جماعت کے اراکین کی غلام انہی دور کی ؟“ جب مرزائیوں کے نام نہاد نبی نے ہمیشہ کے لئے جہاد کوحرام قرار دیدیا ہے تو کیا کشمیر میں محض مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور انہیں دھوکا دینے کی غرض سے تشریف لے گئے تھے؟“۔تقریر شیخ حسام الدین احراری ملتان کا نفرنس دیکھو ” آزاد کا کانفرنس نمبر ۲۶ دسمبر ۱۹۵۰ صفحہ ۱۰ کالم ۴) جہاں تک جماعت احمدیہ کی پوزیشن کا تعلق ہے وہ تو اوپر واضح کی جا چکی ہے کہ احمدی جماعت ہرگز جہاد کی منکر نہیں ہے اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے ہمیشہ کے لئے جہاد کو حرام قرار دیا۔یہ محض احمدی جماعت پر بہتان ہے جس کی احمدی جماعت سابقہ پچاس سال سے تردید کرتی چلی آئی ہے مگر احراری افتراء پردازی بدستور جاری ہے۔اوپر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ارشادات اور اعلان بھی درج ہو چکے ہیں جن میں صاف