مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 767
767 طور پر بتایا گیا ہے کہا وہ التواء کا زمانہ ختم ہورہا ہے۔اس لئے اب احمدی جماعت اگر کسی جہاد میں شریک ہوتی ہے تو وہ احمدیت کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔احراریوں سے ایک سوال البتہ حسام الدین احراری کے مندرجہ بالا اعلان کی بناء پر ایک حل طلب سوال پیدا ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ یہ تو آپ نے تسلیم کر لیا ہے کہ ” جبکہ دنیائے اسلام کے تمام جلیل القدر علماء اور حجاز سے کے کر پاکستان کے آخری کونے تک کے تمام مفتیانِ دین نے واضح الفاظ میں جہاد کشمیر کے سلسلہ میں فتوے صادر کئے بیانات اور تقریروں کے ذریعہ اس جہاد کی اہمیت بیان کی۔تو احمدی جماعت کے نوجوان محاذ کشمیر پر پہنچ گئے اور مہاراجہ کی فوجوں کے خلاف نبرد آزما ہوئے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام کے ان تمام جلیل القدر علماء کے فتاویٰ کا مجلس احرار اور ان کے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر کیا اثر ہوا؟ کیا مجلس احرار نے ”جیوش احرار محاذ کشمیر پر بھیجے ؟ کیا ان کے امیر شریعت نے ان ” جلیل القدر علماء کے فتاوی کے ساتھ عملاً اظہار اتفاق کیا ؟ ۱۹۵۰ء کے سیلاب کے موقع پر جس طرح احراری اخبار آزاد کے کالم کے کالم احراری رضا کاروں کو نمائشی دعوت عمل دینے میں سیاہ ہوتے رہے کیا ایک کالم بھی اس فتویٰ جہاد کی اہمیت بیان کرنے میں صرف کیا گیا ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ احرار کے مایہ ناز لیڈر سید عنایت اللہ شاہ بخاری گجراتی نے اسلام کے جلیل القدر علماء کے بالمقابل گجرات میں یہ فتویٰ دیا کہ جو لوگ محاذ کشمیر پر جا کر شہید ہورہے ہیں وہ حرام موت مر رہے ہیں اور کیا اس فتوی کی بدولت اس احراری لیڈر کو سیفٹی ایکٹ کی دفعہ نمبر ۳ کے ماتحت جیل کی ہوا نہیں کھانی پڑی تھی؟ کیا سید عطاء اللہ شاہ صاحب کے جواں سال صاحبزادگان میں سے کسی کو بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ وہ محاذ کشمیر پر جا کر اس جہاد میں شریک ہوسکتا یا کیا احرار کے سالا را علی یا نائب سالار اعلی یا آزاد کے ایم اے فائنل میں سے کسی کو اس جہاد“ میں اس ” اسلام اور کفر کی ٹکر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ؟ اس وقت ”جیوش احرار کہاں تھے؟ وہ سرخ پوش احراری نوجوان اور ان کا وہ فوجی بینڈ کہاں تھا؟ جس کا مظاہرہ ”یوم تشکر“ کے موقع پر لاہور کے گلی کو چوں اور سڑکوں پر کیا گیا تھا؟ وہ اور بینڈ بجانے والے ”جہاد کشمیر کے موقع پر کیا موت کی نیند سور ہے تھے؟ احمدی جماعت کے وہ نو جوان جنہوں نے اپنی تعلیم اپنے کاروبار اور اپنی کھیتی باڑی کو ترک کر کے