مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 684 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 684

684 میں اس حکم کی منسوخیت نازل ہوئی اور دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ آنحضرت نے بجز چھاگل کے ہر برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کر دی تھی۔پھر ہر ایک برتن میں نیز بنانا لوگوں کے لیے جائز کر دیا۔اس تو جیہہ کے لحاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ موقعوں کے بدلنے سے حکم بدل جایا کرتا ہے۔اسی قسم کے متعلق آپ نے فرمایا کہ میرا کلام، کلام الہی کو سخ نہیں کرسکتا اور کلام الہی میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔“ کتاب حجت الله البال مع اردوترجمه اسمی به موس الل البازغة مطوعه مطبع حمایت اسلام پریس لاہور جلد صحه ۱۲۳۷ صفحه ۲۳۸ باب ۷۴) اس عبارت میں جو دوسری قسم نسخ کی بیان ہوئی ہے وہ خاص طور پر قابل غور ہے۔کیونکہ اس میں ضروری نہیں کہ وحی کے ذریعہ نبی کے پہلے حکم کو منسوخ کیا جائے بلکہ خود اللہ تعالی کا تصرف قلب ملہم پر ہی ایسا ہوسکتا ہے۔کہ وہ اپنے پہلے اجتہاد کو منسوخ کر دے مگر یہ پھر بھی تناقض نہ ہوگا کیونکہ پہلا خیال مہم کا اپنا تھا۔مگر دوسرا خیال خدا تعالی کی طرف سے ہے۔۵۔حدیث شریف میں ہے: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا (مسلم کتاب الطهارة باب الحيض ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک قول سے اپنے ایک گذشتہ قول کو منسوخ کر دیتے تھے۔۔بعض اوقات نبی اپنے اجتہاد اور خیال سے اپنی وحی یا الہام کے ایک معنے بیان کرتا ہے مگر بعد میں واقعات سے اس کے دوسرے معنے ظاہر ہو جاتے ہیں۔جو وحی الہی کے تو مطابق ہوتے ہیں مگر نبی کے اپنے خیال یا اجتہاد کے مطابق نہیں ہوتے۔مثلاً حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ آپ کی ہجرت ایسے شہر کی طرف ہوگی۔جہاں بہت کھجوریں ہیں۔آپ صلعم نے سمجھا کہ اس سے مراد یمامہ یا ہجر ہیں۔لیکن وہ در حقیقت مدینہ شریف تھا۔جیسا کہ بعد کے واقعات سے معلوم ہوا۔( بخاری کتاب التعبير باب اذا رأى بقرا تُنْحَرُ) ے۔بعض دفعہ تحقیقات کے بعد نبی کی رائے بدل جاتی ہے۔مثلاً بخاری شریف میں حدیث ہے: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ اَرَكُمْ يَا بَنِي حَارِثَةَ قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ (بخارى كتاب الحج باب حرم مدینه و تجرید بخاری مترجم اردو مع متن حصہ اول صفحه ۳۵۶) یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبیلہ بنو حارث کے ہاں گئے اور فرمایا کہ بنی حارثہ ! میرا خیال ہے کہ ”تم لوگ حرم سے باہر نکل گئے ہو۔“ پھر