مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 670
670 وَكَمْ نَدِمْتَ عَلَى مَا كُنْتَ قُلْتَ بِهِ وَمَا نَدِمْتَ عَلَى مَا لَمْ تَكُنْ تَقُل ۲۱۔معیارِ طہارت حضرت مرزا صاحب نے اپنے ایک مکتوب محرره ۲۵ نومبر ۱۹۰۳ء میں جوالفضل ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء صفحہ 9 میں شائع ہوا صحابہ کے متعلق لکھا ہے کہ اگر کپڑے پر منی گرتی تھی تو خشک ہونے کے بعد اس کو جھاڑ دیتے تھے۔ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لئے پڑتے تھے۔۔۔عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔۔۔کسی مرض کے وقت میں اونٹ کا پیشاب بھی پی لیتے تھے۔(اخبار الفضل قادیان ۲۲ فروری ۱۹۲۴ صفحه ۹ ) ان امور کا ثبوت دو؟ جواب:۔یہ سب امور حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ ثابت کرنے کے لیے تحریر فرمائے ہیں کہ محض شک اور شبہ کی بناء پر آدمی کو غسل کرنے اور کپڑے دھونے کا وہم نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام اسی خط میں تحریر فرماتے ہیں :۔اسی طرح شک وشبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔شیطان کا کام ہے جو ایسے وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ہر گز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہیے گناہ ہے اور یادر ہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا اور نہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب و ہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کرتے تھے۔(اخبار الفضل قادیان ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء صفحه ۹) اس کے بعد آپ نے وہ مثالیں درج فرمائی ہیں جن کا حوالہ معترض نے دیا ہے۔باقی رہا ان امور کا جن کا حضور نے ذکر فرمایا ثبوت تو سنو :۔ا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی سمجھے کہ اسے رات کو احتلام ہوا تھا مگر تری نہ دیکھے تو اسے غسل کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر غسل نہیں ہے۔(منفی لا بن تیمیہ صفحہ ۱۳۸طب اولی مطبع رحمانیہ بمصر ) كُنْتُ أَفْرِكَ الْمَنِى مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَابِسًا ( منتقی لا بن تیمیه صفحه ۲۸ باب ما جاء فی المی طبع اولی مطبع رحمانیہ بمصر ) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر سے خشک شدہ منی کھرچ دیتی تھی۔۔حضرت ابوسعید الخدری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ہم بئر بضاعہ