مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 661
661 متاع في الدُّنيا سے مراد معترض نے غالباً لمبی مہلت لی ہے تبھی تو اس کو جلد پکڑے جانے‘ کے الٹ قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔تم خود اپنی محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۲۷۲ و صفحه ۲۴۷ مطبوعه ۱۹۳۵ء پر اپنے ہاتھ کاٹ چکے ہو۔جہاں پر قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت نقل کی ہے:۔إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم (النحل : ۱۱۸،۱۱۷) اور خود ہی یہ ترجمہ بھی کیا ہے۔تحقیق مفتری نجات نہیں پائیں گے انہیں نفع تھوڑا ہے۔عذاب دردناک گویا پہلی آیت میں جو صرف ”متائع“ کا لفظ تھا جس سے تم نے مغالطہ دینا چاہا کہ گویا مفتری کو لمبی مہلت ملتی ہے۔اس آیت نے صاف کر دیا کہ مَتَاع قليل “ کہ لمبی مہلت نہیں بلکہ تھوڑی مہلت ملتی ہے۔ہاں تمہارا یہ کہنا کہ ۲۳ برس کی مہلت کو جلد (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۲۴۹) کیونکر قرار دیا جاتا ہے اور کیا ۲۳ سال کا "جلد" ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ۲۳ برس تو زیادہ سے زیادہ مہلت ہے جس تک کسی صورت میں بھی کوئی مفتری نہیں پہنچ سکتا۔اور سچے کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ سوسال جیئے۔مگر ہاں بعض دفعہ ۲۳ سال کیا ۱۴۰۰ سال کا جلد ہوا کرتا ہے۔ملاحظہ ہو:۔ا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: - اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ (ابن ماجه کتاب الفتن باب اشراط الساعة ) کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں جس طرح دو جڑی ہوئی انگلیاں۔مگر ۱۳۷۲ سال گزر گئے ابھی تک وہ جلد ختم نہیں ہوا۔۲۔ہاں سنو ! قرآن مجید میں ہے۔"اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ “ (القمر: ٢) كه قیامت ” قریب آگئی اور چاند کے دوٹکڑے ہو گئے۔۱۴۰۰ سال گزرنے کو آئے مگر ابھی تک قیامت نہ آئی۔فرمائیے یہ جلد کتنا طویل ہو گیا۔ا۔انبیاء گزشتہ کے کشوف حضرت مرزا صاحب نے اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۷۱ میں لکھا ہے کہ اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا۔کسی نبی