مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 660
660 یہ جھوٹ ہے۔الجواب:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن آیات قرآنی سے استنباط فرما کر یہ تحریر فرمایا ہے کہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگے گا حضور نے اپنی تحریرات میں ان آیات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ا۔قرآن نے بہت سے امثال بیان کر کے ہمارے ذہن نشین کر دیا ہے کہ وضع عالم دوری ہے اور نیکوں اور بدوں کی جماعتیں ہمیشہ بروزی طور پر دنیا میں آتی رہتی ہیں وہ یہودی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے۔خدا نے دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سکھلا کر اشارہ فرما دیا کہ وہ بروزی طور پر اس اُمت میں بھی آنے والے ہیں تا بروزی طور پر وہ بھی اس مسیح موعود کو ایذا دیں جو اس اُمت میں بروزی طور پر آنے والا ہے۔“ ( تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۸۳ ۴۸۴ ) وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَك هُمُ الفَسِقُونَ (النور: ۵۶)۔پس اس آیت سے سمجھا جاتا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی کیونکہ وہ خلافت کے اس آخری نقطہ پر ہے۔“ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلدی اصفحه ۱۹۱،۱۹۰ بقیہ حاشیہ) ۳۔نیز دیکھ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۳۶،۱۰۳۵۶ طبع اول ۴ مفصل ومزید بحث دیکھو پاکٹ بک صفحہ ۸۲۵ پر۔۱۰۔مفتری جلد پکڑا جاتا ہے اعتراض:۔حضرت نے لکھا ہے: ”دیکھو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افترا کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں۔“ (نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلدہ صفحہ ۳۹۷) حالانکہ قرآن پاک میں کہیں نہیں لکھا کہ میں مفتری کو جلد ہلاک کرتا ہوں بلکہ اس کے الٹ ہے۔إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا (یونس: ۷۱۷۰ )۔( محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۱۵۱ او صفحریم ۱۷ مطبوعہ یکم مارچ ۱۹۳۵ء) الجواب:۔(1) افترا علی اللہ کرنے والے کو پکڑنے کے متعلق الہی قانون پر ہم نے مفصل بحث صداقت حضرت مسیح موعود کی دوسری دلیل کے ضمن میں کردی ہے۔(دیکھو پاکٹ بک بذ اصفحہ ۳۳۵) (۲) مگر اس جگہ جو آیت تم نے پیش کی ہے اس کے مفہوم کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا ہے۔