مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 646 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 646

حصہ چہارم 646 تحریرات پر اعتراضات ا۔شاعر ہونا قرآن مجید میں ہے وَ مَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ يُزِ الشُّعَرَاءُ يَتَّبِعَهُمُ الْغَاوُنَ (الشعراء: ۲۲۵) نبی شاعر نہیں ہوتا۔مرزا صاحب شاعر تھے۔الجواب:۔(۱) بیشک قرآن مجید میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاعر نہ تھے اور قرآن مجید نے شاعر کی تعریف بھی کر دی ہے۔فرمایا: - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ (الشعراء: ۲۲۷،۲۲۶) کہ کیا تو نہیں دیکھتا کہ شاعر ہر وادی میں سرگردان پھرتے ہیں۔یعنی ہوائی گھوڑے دوڑاتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔گویا شاعر وہ ہے۔ا۔جو ہوائی گھوڑے دوڑائے۔خیالی پلاؤ پکائے۔۲۔اس کے قول اور فعل میں مطابقت نہ ہو۔فرمایا: مَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ “ (يس: ۷۰ ) ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوائی گھوڑے دوڑانا اور محض باتیں بنانا نہیں سکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں تھیں۔اور (۲) لغت میں ہے:۔وَقَوْلُهُ تَعَالَى حِكَايَةً عَنِ الْكُفَّارِ (بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ وَقَوْلُهُ شَاعِرٌ مَجْنُونٌ۔۔۔۔۔لَمْ يَقْصِدُوا هَذَا الْمَقْصِدَ فِيْمَا رَمَوْهُ بِهِ وَ ذَلِكَ أَنَّهُ ظَاهِرٌ مِنَ الْكَلَامِ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى أَسَالِيبِ الشَّعْرِ وَلَا يَخْفَى ذَالِكَ عَلَى الْإِغْتَامِ مِنَ الْعَجَمِ فَضْلًا عَنْ بُلَغَاءِ الْعَرَبِ وَ إِنَّمَا رَمَوْهُ بِالْكَذِبِ فَإِنَّ الشَّعْرَ يُعَبَّرُ بِهِ عَنِ الْكَذِبِ وَالشَّاعِرُ الْكَاذِبُ۔۔۔۔۔قِيْلَ اَحْسَنُ الشِّعْرِ اَكْذَبُه۔(مفردات راغب زیر لفظ شعر) کہ قرآن مجید میں جو یہ آتا ہے کہ کا فرآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوشاعر اور مجنون کہتے ہیں۔اس سے مراد کا فروں کی کلام موزوں کہا نہ تھی۔بلکہ جس بات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا جاتا تھا وہ اور تھی کیونکہ قرآن کا نثر ہونا تو ایسی بات ہے کہ کلام سے خود ہی ظاہر ہے ( کہ یہ شعروں کی طرز پر نہیں ) اور یہ امر ایک عام آدمی پر بھی مخفی نہیں رہ سکتا چہ جائیکہ بلغاء عرب نثر اور نظم میں تمیز نہ کر سکتے