مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 643 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 643

643 چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ساتویں اشتہار مورخہ ۳۰ / دسمبر ۱۸۹۵ء میں مسٹر آتھم اور پادری فتح مسیح کے عنوان سے ایک اشتہار دیا جس میں آتھم کے متعلق تحریر کیا کہ اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے ان کو ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ میرے مقابل پر قسم کھانے کے لیے ہرگز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔چنانچہ آتھم کے قسم نہ کھانے اور سات اشتہارات پر سات دفعہ انکار کرنے کے بعد آخر ساتویں اشتہار کو ابھی سات مہینے نہیں گزرے تھے کہ آتھم ۲۷ / جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور را ہی ملک عدم ہوا۔“ خدا تعالیٰ نے آتھم کے ذریعہ سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر زندگی اور موت کے دونشان ظاہر فرمائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرنے سے آتھم نے پندرہ ماہ کے عرصہ میں زندگی پائی اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے نشان کو چھپانے کے نتیجہ میں اسے ”موت“ حاصل ہوئی۔اور اس نشان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت حقیقی زندگی بخشتی ہے۔اور آپ کی مخالفت ایک موت کا پیالہ ہے جس کا پینے والا روحانی موت سے بچ نہیں سکتا۔۹ - محمد حسین کی ذلت مرزا صاحب نے لکھا تھا کہ محمد حسین ذلیل ہوگا۔یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔الجواب : محمد حسین پر کئی ذلتیں آئیں۔تفصیل کے لیے دیکھو کتاب ” بطالوی کا انجام مصنفہ جناب میر قاسم علی صاحب۔اجمالاً یہاں کچھ لکھا جاتا ہے۔ا۔محمد حسین نے حضرت اقدس علیہ السلام پر اس وجہ سے فتویٰ کفر لگایا کہ آپ گویا مہدی خونی کے قائل نہیں۔مگر بعد میں اس نے خود گورنمنٹ سے زمین حاصل کرنے کی غرض سے بطور خوشامد یہ لکھا کہ کوئی ایسا جنگ اور جہاد کرنے والا مہدی نہیں آئے گا اور یہ کہ اس مہدی کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں سب موضوع اور ضعیف ہیں۔چنانچہ اس نے ۱۴۔اکتوبر ۱۸۹۴ء کو ایک انگریزی فہرست شائع کی۔جس میں مہدی کی آمد کا انکار کیا۔اس پر غیر احمدی علماء ہی سے حضرت اقدس نے خونی مہدی کے منکر کے متعلق فتوی کفر حاصل کر لیا۔پس محمد حسین اپنے مسلمات کی رو سے ذلیل ہوا۔تفصیل دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہارے جنوری ۱۸۹۹ء)