مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 633
633 ود فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔(تذکرہ صفحہ ۱۰۹ مطبوعہ ۲۰۰۲ء) اب دیکھ لیجئے کہ بشیر الدولہ کے بالمقابل "بشیر الدین کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز کے بالمقابل کلمۃ اللہ مصلح موعود خلیفتہ ایسیح الثانی کے نام ہیں، جماعت کی ترقی کے متعلق بعینہ ایک ہی قسم کے الفاظ دونوں کے متعلق ہیں۔عالم کباب کا نام فاتح الدین“ ہے تو مصلح موعود کو فتح کی کلید قرار دیا گیا ہے۔اگر عالم کباب کی آمد کو هَذَا يَوْمٌ مُبَارَک کہا ہے تو مصلح موعود کی بشارت میں دوشنبہ ہے مبارک دوشنبه ( تذکرہ صفحہ ۱ مطبوع ۲۰۰۴ء) فرمایا ہے اور اگر ”عالم کباب“ کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ وہ مخالفین و معاندین کے لیے عذاب الہی کا موجب ہوگا نیز فرمایا کہ وہ لڑکا نیکوں کے لیے اور اس سلسلہ کے لیے ایک سعد ستارہ کی طرح مگر بدوں کے لیے اس کے برخلاف ہوگا۔( الحکم ارجون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۔البدر ۴ ارجون ۱۹۰۶ء صفحه ۲) تو بعینہ اسی طرح مصلح موعود کے متعلق فرمایا ہے کہ ”تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجاوے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔۔۔۔اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔۔جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء۔و تذکره صفحه ۱۰۹ تا ۱۱۱ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) غرضیکہ دونوں کے نام اور صفات ایک ہی ہیں۔پس ثابت ہوا کہ یہ دونوں پیشگوئیاں ایک ہی وجود کے متعلق ہیں۔ایک اعتراض بعض لوگ ریویو اور بدر کے حوالہ سے ایک ڈائری پیش کیا کرتے ہیں کہ گویا حضرت اقدس علیہ السلام نے الہاما منظور محد کی تعین فرما دی ہے اور اپنے قلم سے لکھا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ وہ لڑکا میاں منظور محمد صاحب کے ہاں ان کی بیوی محمدی بیگم کے پیٹ سے پیدا ہوگا۔جواب : محمدیہ پاکٹ بک کے مصنف کا یہ لکھنا کہ ڈائری محولہ از ریویو جون ۱۹۰۶ ء حضرت اقدس کے قلم سے لکھی گئی۔(محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۳۲ تا ۳۷) محض جہالت ہے۔وہ حضرت صاحب کی تحریر نہیں بلکہ ڈائری نویس نے محض اپنی یادداشت کی بناء پر تحریر کر کے طبع کرائی ہے۔وہ ڈائری کی مندرجہ ذیل وجوہ کی بناء پر قابل قبول نہیں۔ا۔وہ ڈائری حضرت اقدس کی تصریح مندرجہ بدر جلد ۲ نمبر ۸ و مکاشفات از محمد منظور الہی جنجوعه