مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 632
632 طرف اشارہ ہے۔( تذکرہ صفحہ ۵۱۰ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) بعض اور بھی قرائن ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ”عالم کباب (ایضاً صفحہ ۵۳۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) لڑکے سے مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہی ہیں نہ کوئی اور۔ا۔عالم کباب لڑکے کے مندرجہ ذیل نام اور صفات بیان کی گئی ہیں :۔۴۔کلمۃ اللہ۔کلمۃ العزیز بشیر الدولہ ناصرالدین۔فاتح الدین۔شادی خاں هذَا يَوْمٌ مُبَارَكٌ تذکره ۵۳۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء) حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کی تشریح بھی فرمائی ہے:۔(۱) بشیر الدولہ سے یہ مراد ہے کہ وہ ہماری دولت اور اقبال کے لیے بشارت دینے والا ہوگا۔اس کے پیدا ہونے کے بعد (یا اس کے ہوش سنبھالنے کے بعد ) زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی اور دوسری پیشگوئیاں ظہور میں آئیں گی اور گروہ کثیر مخلوقات کا ہماری طرف رجوع کرے گا اور عظیم الشان فتح ظہور میں آئے گی۔“ تذکره صفحه ۵۳۳ مطبوعه ۲۰۰۴ء) (۲) عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد چند ماہ تک یا جب تک کہ وہ اپنی برائی بھلائی شناخت کرے۔دنیا پر ایک سخت تبا ہی آئے گی۔اس وجہ سے اس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔“ ( تذکره صفحه ۵۳۴ مطبوع ۲۰۰۴ء) غرضیکہ عالم کباب کی صفت بشیر الدولہ اور نصرالدین اور رحمت اللہ اور راح الدین سے سلسلہ کی ترقی کی بشارت ہے۔اب دیکھئے بعینہ یہی صفات اور نام حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی مصلح موعود کے ہیں۔ملاحظہ ہو:۔٣۔وہ کلمۃ اللہ ہے۔(اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء و تذکره صفحه ۱۱ مطبوع ۲۰۰۴ء) بشیر الدین وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔۔۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کا رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔“ ( تذکره صفحه ۱۱۱۰۱۱۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء)