مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 608
608 ایسے لوگوں کو جو کسی دلیل کو نہ جائیں، کسی علمی بات کو نہ سمجھیں بغرض’بد را بدر بائید رسانید کہہ دے کہ آؤ ایک آخری فیصلہ بھی سنو ، ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے ، اپنی بیٹیاں اور تمہاری بیٹیاں، اپنے بھائی بند نزد یکی اور تمہارے بھائی بند نزدیکی بلائیں۔پھر عاجزی سے جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔خدا خود فیصلہ دنیا میں ہی کر دے گا۔“ (تفسیر ثنائی زیرہ آیت آل عمران: ۶۱) ۴۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک بھی یہ دعائے مباہلہ ہی تھی جیسا کہ حضور فرماتے ہیں:۔مباہلہ ایک آخری فیصلہ ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نصاری کو مباہلہ کے واسطے طلب کیا تھا مگر ان میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی ( بدرے مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۵۔حضرت اقدس نے بعینہ ”آخری فیصلہ والی دعا کے مطابق ایک اشتہا ر۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ کے متعلق شائع فرمایا تھا۔اس کے متعلق حضور فرماتے ہیں:۔۲/ نومبر ۱۸۹۸ء کا ہمارا اشتہار جو مباہلہ کے رنگ میں شیخ محمد حسین اور اس کے دو ہم راز رفیقوں کے مقابل پر نکلا ہے وہ صرف ایک دعا ہے۔“ (راز حقیقت صفحهب اشتہار۳۰/نومبر ۱۸۹۸ء) اب یہ اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء ایک آخری فیصلہ ہے چاہیے کہ ہر ایک طالب صادق صبر سے انتظار کرے۔“ ( راز حقیقت صفحه ۱۴) گویا حضرت نے اشتہار کو جو ”مباہلہ کے رنگ میں ایک دعا‘ پر مشتمل تھا آخری فیصلہ قرار دے کر بتا دیا ہے کہ حضور کے نزدیک آخری فیصلہ سے مرادمباہلہ ہی ہوتا ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۸) حضور تحریر فرماتے ہیں کیونکہ جب کسی طرح جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکے تو آخری طریق خدا کا فیصلہ ہے جس کو مباہلہ کہتے ہیں۔“ تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحه ۵۲ نیز مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۸ اشتهارمورخه ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء)۔حضرت مسیح موعود کے نزدیک صرف اور صرف مباہلہ کی صورت میں جھوٹا سچے کی زندگی میں مرتا ہے ، جیسا کہ حضور تحریر فرماتے ہیں۔یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ بچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔کیا آنحضرت کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی