مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 607
607 اور اسے حضرت مسیح موعود کے پیچھے زندہ رکھ کر مسیلمہ کذاب ثابت کر دیا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار مسودہ مباہلہ“ ہے جس طرح قرآن مجید کی آیت مباہلہ میں لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (سورة ال عمران : ۶۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسودہ مباہلہ تھی۔وہاں چونکہ عیسائی بھاگ گئے تھے اس لئے مباہلہ نہ ہوا اور وہ نہ مرے۔،، آنحضرت نے فرمایا کہ لَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا (تفسیر کبیر رازی جلد ۸ صفحه ۸۵ مصری مطبوعہ ۱۹۳۸ء پہلا ایڈیشن زیر آیت لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ - آل عمران : ۶۲) اگر عیسائی مباہلہ کر لیتے اور آنحضرت کی طرح لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الكَذِبِينَ کہہ دیتے تو ان میں سے ہر ایک ایک سال کے اندر ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر مولوی ثناء اللہ بھی حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں میدانِ مباہلہ سے بھاگ نہ جاتا اور حضرت کی خواہش کے مطابق وہی بد دعا کرتا تو یقینا ہلاک ہو جاتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے خود تحریر فرمایا ہے کہ اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کا ذب صادق کے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔‘ ( اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۲۱) پس جس طرح وہاں پر نجران کے عیسائیوں کا فرار خدائی فیصلہ بروئے مباہلہ“ کے رستہ میں روک ثابت ہوا۔یہاں بھی ثناء اللہ کا مندرجہ بالا فرار اس کو ہلاکت سے بچا گیا۔نہ حضرت مسیح موعود آنحضرت سے بڑے ہیں اور نہ مولوی ثناء اللہ نجران کے عیسائیوں سے بڑا ہے۔اشتہار آخری فیصلہ مسودہ مباہلہ تھا ا۔خود مولوی ثناء اللہ لکھتا ہے: ”کرشن قادیانی نے ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔“ ( مرقع قادیان جون ۱۹۰۸ صفحہ ۱۸) ۲۔آج تک مرزا صاحب نے کسی مخالف سے ایسا کھلا مباہلہ نہیں کیا تھا بلکہ ہمیشہ گول مول رکھا کرتے تھے۔“ (اشتہار مرزا قادیانی کا انتقال اور اس کا نتیجہ شائع کردہ ثناء اللہ اس رمئی ۱۹۰۸ء)۔حضرت مسیح موعود کے اشتہار کا عنوان ہے۔مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۷۹ اشتہار مرقومه ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء) اور مولوی ثناء اللہ کے نزدیک آخری فیصلہ مباہلہ ہی ہوتا ہے۔جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: