مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 609 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 609

609 ہلاک ہو گئے تھے بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے تھے۔ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا بچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے۔ہم تو ایسی باتیں سن کر حیران ہوتے ہیں۔دیکھو ہماری باتوں کو کیسے الٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔کیا یہ کسی نبی ، ولی، قطب،غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مر گئے ہوں ، بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے، ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ بچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ بچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں، ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے 66 کے ہی جھوٹے بچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔وہ جگہ تو نکا لو جہاں یہ لکھا ہے۔“ (احکم ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۹) ۷۔ثناء اللہ اگر اس کو اشتہار مباہلہ نہ سمجھتا تھا تو اس کے جواب میں یہ کیوں لکھا تھا کہ اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔“ ( اخبار اہل حدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء) کیونکہ ظاہر ہے کہ یکطرفہ بددعا کے لئے دوسرے کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔منظوری یا عدم منظوری کا سوال صرف اور صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ یہ دعائے مباہلہ ہو۔عنوان اشتہار ہے ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ (مجموعہ اشتہارات جلد۳ صفحه ۵۷۸ اشتہار مورخہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء) ”ساتھ“ کا لفظ صاف طور پر بتارہا ہے کہ یہ یکطرفہ دعا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی رضا مندی کا سوال ہے۔اگر یک طرفہ دعا ہوتی تو ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق آخری فیصلہ ہونا چاہئے تھا۔مجسٹریٹ جب فیصلہ کرتا ہے تو زید یا بکر کے متعلق فیصلہ کرتا ہے لیکن جب یہ کہا جائے کہ زید نے بکر کے ساتھ فیصلہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زید اور بکر دونوں کی رضا مندی سے یہ فیصلہ ہوا۔اگر ایک فریق بھی نارضامند ہو تو اندر میں صورت وہ فیصلہ قائم نہ رہے گا۔پس چونکہ مولوی ثناء اللہ اس فیصلہ پر رضامند نہ ہوا اور لکھا کہ یہ تحریر مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔“ (اخبار اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء) تو وہ دعا فیصلہ نہ رہی۔اسی وجہ سے ثناء اللہ نے بھی لکھا تھا کہ:۔یہ دعا فیصلہ کن نہیں ہوسکتی۔“ ۹۔حضرت اقدس کا لکھنا کہ جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد۳