مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 581
581 ۵۔روح البیان جلد اصفحہ ۲۵۷ مطبوعہ مصر پر بھی قضاء مبرم کے ٹلنے کا ذکر ہے۔۔حضرت مسیح موعود کا یہی مذہب تھا کہ قضاء مبرم دعا اور صدقہ سے مل سکتی ہے اور جہاں حضور نے یہ لکھا ہے کہ یہ تقدیر مبرم جو ٹل نہیں سکتی تو اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ تو بہ اور دعا کے بغیر ٹل نہیں سکتی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔إنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَا (النساء: ٤٩) کہ اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا اس گناہ کو کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس گناہ کے سوا باقی جس کو چاہے بخشد۔مگر دوسری جگہ فرمایا۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر:۵۴) کہہ دے اے میرے بندو! جنہوں نے گناہ کیا تم خدا کی رحمت سے نا امید مت ہو، اللہ تعالیٰ سب گنا ہوں کو بخش دے گا اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔اس آیت میں جملہ گناہوں کے معاف کرنے کا ذکر ہے۔پس تطبیق کی صورت یہی ہے کہ شرک کے گناہ کی معافی کو تو بہ کی شرط سے مشروط کیا جائے یعنی سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت کا یہ مطلب لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ شرک کو بغیر تو بہ کے نہیں بخشے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے جہاں تقدیر مبرم کے نہ ٹلنے کا ذکر فرمایا ہے وہاں بھی مراد بصورت عدم دعا اور تو بہ ہی ہے نہ کہ مطلقا کیونکہ حضرت مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۱۹ پر تحریر فرمایا ہے کہ جب میں نے عبدالرحیم خلف حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی صحت یابی کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے مگر جب زیادہ تضرع اور ابتہال سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس تقدیر کو ٹلا دیا اور عبدالرحیم اچھا ہوگا۔پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک مبرم قسم کی تقدیر بھی دعا اور توجہ سے مل سکتی ہے۔ثناء اللہ (امرتسری) کا خط مولوی ثناء اللہ امرتسری نے ہزاروں جتن کر کے اہل حدیث مورخہ ۱۴ / مارچ ۱۹۲۴ء میں حضرت مسیح موعود کی وفات کے سولہ سال بعد ایک غیر مصدقہ تحریر مرزا سلطان محمد کی طرف منسوب کر کے